ضمیر کی آواز- ایک غیر مسلم لڑکی کی فلسطین کے لیے جدوجہد

 

تحریر : انجینئر مطیع اللہ خان

سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان مسلم لیگ ( ق) اسلام آباد کیپٹل

 

 

جب دنیا خاموش تھی، جب امت مسلمہ خواب غفلت میں تھی، تب ایک غیرمسلم لڑکی نے وہ کام کر دکھایا جو کئی نام نہاد رہنما نہ کر سکے۔۔
ایک ایسی بہادر لڑکی، جس نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، انصاف کے لئے قدم اٹھایا اور فلسطینی مظلوموں کے لیے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔
جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں گریٹا تھونبرگ کی۔وہ لڑکی جو ماحولیاتی تحریک کی علامت بنی مگر اب وہ گلوبل صمود فلوٹیلا قافلے کی روح رواں ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کی شجاعت اپنی جگہ قابل تحسین ہے مگر گریٹا تھونبرگ کی جرات اور جذبہ حیران کن حد تک متاثر کن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ لکھے گی کہ ظلم کے خلاف ایک غیرمسلم لڑکی نے وہ علم اٹھایا جو کئی مسلمان چھوڑ چکے تھے۔
جب غزہ پر تاریخ کا بدترین ظلم ہو رہا تھا، جب معصوم بچے خون میں لت پت تھے، تب گریٹا تھونبرگ نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔
یہ ایک پکار ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم بھی ظلم کے خلاف اتنی جرات رکھتے ہیں؟
گریٹا تھونبرگ نے ثابت کیا کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اگر ایک غیرمسلم لڑکی فلسطینی بھائیوں کا مقدمہ لڑ سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟
ضمیر کو جگائیں۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ انسانیت کا ساتھ دیں۔

جب تاریخ سے مصافحہ ہوا– چوہدری ظہور الٰہی شہید سے ملاقات کا لمحہ۔

Comments (0)
Add Comment