چین کی ترقی: اعداد و شمار کے پیچھے سمت

 

 

اعتصام الحق ثاقب

 

اکثر کہا جاتا ہے کہ اعداد و شمار خود نہیں بولتے، بلکہ ان کی تشریح انہیں معنی دیتی ہے۔ چین کی جانب سے حالیہ دنوں میں 2025 کی اقتصادی و سماجی کارکردگی سے متعلق جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ بھی اسی اصول کے تحت سمجھے جانے کے متقاضی ہیں۔ مجموعی قومی پیداوار میں 5.0 فیصد اضافہ، شہریوں کی فی کس قابلِ خرچ آمدنی میں 5 فیصد نمو، اور مقررہ سائز سے بالا صنعتی اداروں کی اضافی قدر میں 5.9 فیصد اضافہ محض معاشی پیش رفت نہیں، بلکہ ایک منظم اور طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

عالمی معیشت اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ کہیں افراطِ زر دباؤ ڈال رہا ہے تو کہیں جغرافیائی کشیدگیاں معاشی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں چین کی معیشت کا مستحکم انداز میں آگے بڑھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کی ترقی محض وقتی اقدامات کا نتیجہ نہیں بلکہ مضبوط منصوبہ بندی اور داخلی اصلاحات کی پیداوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیش رفت “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے۔

چینی ترقی کے ماڈل کی ایک نمایاں خصوصیت متوازن ترقی پر زور ہے، جس کی ایک واضح مثال شہری اور دیہی آمدنی کے اعداد و شمار میں نظر آتی ہے۔ 2025 میں شہری باشندوں کی فی کس قابلِ خرچ آمدنی 56,502 یوان رہی، جس میں حقیقی بنیادوں پر 4.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیہی باشندوں کی فی کس آمدنی 24,456 یوان تک پہنچ گئی، جس میں 6.0 فیصد حقیقی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دیہی آمدنی کی شرحِ نمو کا شہری علاقوں سے زیادہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دیہی احیاء کی حکمتِ عملی اب محض نعرہ نہیں رہی بلکہ عملی نتائج دینے لگی ہے۔

گزشتہ برسوں میں چین نے زرعی معاون پالیسیوں، دیہی صنعتوں کی اپ گریڈیشن، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی خدمات کی شہری و دیہی مساوات پر خاص توجہ دی ہے۔ دیہی علاقوں میں سڑکوں، ڈیجیٹل سہولیات، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی بہتری نے نہ صرف معیارِ زندگی کو بلند کیا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ یہ اقدامات اس وسیع تر مقصد کا حصہ ہیں جس کے تحت شہری و دیہی عدم توازن کو کم کر کے ترقی کے ثمرات کو زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔

چین کی ترقی کا دوسرا اہم رخ سبز معیشت اور کھپت کے نئے رجحانات ہیں۔ 2024 میں نافذ کی گئی صارفی اشیاء کی “ٹریڈ اِن پالیسی” کے تحت اب تک 494 ملین افراد مستفید ہو

چکے ہیں، جبکہ اس سے وابستہ مصنوعات کی فروخت 3.92 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام کی کھپت کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی صارفین کی ترجیحات میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، ٹریڈ اِن کی جانے والی گاڑیوں میں نئی توانائی والی گاڑیوں کا تناسب 60 فیصد رہا، گھریلو برقی آلات میں اعلیٰ توانائی افادیت رکھنے والی مصنوعات کا حصہ 90 فیصد سے زائد رہا، جبکہ ڈیجیٹل مصنوعات میں درمیانے اور اعلیٰ درجے کے ماڈلز کا تناسب 72.5 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ رجحانات واضح کرتے ہیں کہ چین میں کھپت کا رجحان محض زیادہ خریداری کی طرف نہیں بلکہ بہتر، ماحول دوست اور اسمارٹ مصنوعات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس طرح سبز ترقی اور صنعتی اپ گریڈیشن ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔

ترقی کا ایک اور اہم پیمانہ عوام کا احساسِ تحفظ ہے، جو اکثر معاشی تجزیوں میں نظر انداز ہو جاتا ہے۔ 2025 میں چین میں عوامی احساسِ تحفظ کی شرح 98.23 فیصد تک پہنچ گئی، جو مسلسل چھ برسوں سے 98 فیصد سے زائد رہی ہے۔ یہ شرح اس بات کی غماز ہے کہ چین نے سماجی استحکام اور عوامی سلامتی کو قومی ترقی کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دی ہے۔

اس بلند سطح کے احساسِ تحفظ کے پیچھے سماجی تحفظ عامہ کے نظام کی مضبوطی، بنیادی سطح پر گورننس کی بہتری، اور اس تصور کی عملی تعبیر کارفرما ہے کہ “عوامی تحفظ بنیادی ترین عوامی

بہبود ہے”۔ مقامی سطح پر مسائل کے فوری حل، قانون کے موثر نفاذ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے عوام کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کے حالیہ اعداد و شمار ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کی تصویر پیش کرتے ہیں جو رفتار کے ساتھ ساتھ سمت پر بھی گہری نظر رکھتا ہے۔ شہری و دیہی ہم آہنگی، سبز معیشت کی جانب پیش قدمی اور مضبوط عوامی تحفظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ چینی طرزِ ترقی محض معاشی نمو تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع سماجی وژن کا حامل ہے۔ یہی خصوصیات چین کو موجودہ عالمی حالات میں بھی عالمی اقتصادی ترقی کا ایک اہم ستون بنائے ہوئے ہیں۔

نائٹ ٹائم اکانومی

Comments (0)
Add Comment