چین کا دیہی احیاء  پروگرام

اعتصام الحق

چین نے 2020 کے اوائل میں غربت خاتمے کے اہم اہداف پورے کرنے کے  سے پہلے ہی 2017 میں بعد اپنے دیہی علاقوں کی جامع بحالی اور جدید کاری کو ایک قومی ترجیح   سمجھ کر دیہی احٰیاء کا پروگرام شروع کیا تھا جسے بعد میں مزید فروغ دیا گیا ۔چین کی  مرکزی حکومت نے دیہی  احیاء کو قومی ترقی کا حصہ قرار دیا اور اسے زرعی جدید کاری، بنیادی ڈھانچے، دیہی آمدنی میں اضافے اور سماجی خدمات کے یکساں پھیلاؤ کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ 

زرعی پیداوار میں استحکام اور خوراک  میں   خود کفالت پروگرام کا بنیادی ستون ہے۔ وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین کی مجموعی اناج کی پیداوار پہلی بار 700 ملین ٹن سے زائد رہی، جس نے قومی خوراکی سلامتی کو مضبوط کیا۔حالیہ سرکاری اعداد و شمار  کے مطابق  31 صوبوں میں خوراک کی بوائی کے رقبے، فی رقبہ پیداوار اور کل پیداوار کے اعداد شمار دیکھے جائیں تو  سال 2025 میں ملک بھر میں  خوراک کی بوائی کا کل رقبہ 119.409 ملین ہیکٹر رہا، جو 2024 کے مقابلے میں 90 ہزار ہیکٹر زیادہ ہے، جس میں 0.1 فیصد کا اضافہ ہوا۔جبکہ  پورے ملک میں فی ہیکٹر خوراک کی اوسط پیداوار 5,987 کلوگرام رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 65.7 کلوگرام فی ہیکٹر زیادہ ہے، اس میں بھی 1.1 فیصد کا اضافہ  ہوا۔ اسکے علاوہ ملک بھر میں  خوراک کی کل پیداوار 714.88 ملین ٹن رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 8.38 ملین ٹن زیادہ ہے، جس میں 1.2 فیصد کا  اضافہ ہوا ہے۔  اس کے ساتھ ہی حکومت نے ہائی-اسٹینڈرڈ کھیتوں کے نظام کو تیزی سے بڑھایا اور 2024 کے اختتام تک  تقریباً 66.7 ملین ہیکٹر  اعلی معیار کی زرعی زمین مکمل کی گئی۔ 

دیہی انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ حالیہ پالیسی دستاویزات اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  آبپاشی کے نیٹ ورک، دیہی سڑکیں، گیس و بجلی کے کنکشن اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر وزارتِ زراعت  کے مطابق جدید آبپاشی نیٹ ورکس ہزاروں کلومیٹر پر  پھیلے ہوئے ہیں اور ہائی-اسٹینڈرڈ کھیت روایتی کھیتوں کی نسبت اوسطاً 10 فیصد زیادہ پیداوار دیتے ہیں۔ 

آمدنی اور روزگار کے میدان میں بھی پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ قومی شماریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں غریب اضلاع سے اٹھائے گئے دیہی گھروں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی 17,522 یوآن رہی، جو 2023 کے مقابلے میں 6.9 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی دوران شہروں اور دیہات کے درمیان آمدنی کے فرق کو کم کرنے کے لیے مخصوص سبسڈیز، قابلِ قرضہ اسکیمیں اور مقامی صنعتوں کی حمایت فراہم کی گئی۔ 

محنت کشوں اور دیہی مزدوروں کی نقل مکانی اور روزگار کی صورتحال میں تسلسل آیا ہے۔ حکومت دیہی روزگار کو برقرار رکھنے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے تربیت اور مالی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ 

زرعی اصلاحات اور سٹیک ہولڈر اسٹرکچرز میں تبدیلیاں بھی جاری ہیں۔ مرکزی دستاویزات میں اجاگر کیا گیا ہے کہ چار اہم راستوں پر توجہ دی جائے گی۔نمبر ایک  ملکیتی اور زمین کے انتظامی نظام کو مستحکم کرنا۔ دوسرا یہ کہ   کھیتی باڑی کی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل زرعی نظام متعارف کرانا۔تیسرا   خوراک کے  ذخائر اور رسد کے نظام کو مضبوط بنانا، اور  چوتھا  مقامی صنعتی چینز یعنی خوراکی پراسیسنگ، زرعی برآمدات اور دیہی سیاحت کو فروغ دینا۔ یہ حکمت عملیاں 2025 تک دیہی معیار، دیہی صنعت، دیہی سماجی خدمات میں بہتری کے لیے ترتیب دی گئی  تھیں ۔ 

اس سلسلے میں چیلنجز اور خطرات بھی موجود ہیں۔ دیہی آبادی میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدگی، نوجوانوں کا شہروں کی طرف ہجرت کرنا، زمین کی ماحولیاتی خرابی اور آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ مرکزی دستاویزات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگلے مرحلے میں ڈھلنے والی زمین کی حفاظت، پراڈکٹ ویلیو چین کی بہتری، اور قابلِ تجدید زرعی مشقیں لازمی ہیں تاکہ دیہی ترقی پائیدار رہے۔ 

نتیجہ کے طور پر، چین کے  دیہی احیاء کے پروگرام نے کم از کم تین واضح نتائج دیے ہیں۔ ایک تو یہ کہ خوراکی پیداوار نے ریکارڈ سطحیں چھوئیں اور زرعی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھی۔ دوسرا یہ کہ دیہی آمدنی میں مسلسل نمو دیکھی گئی اور غریب اضلاع کی آمدنی مستحکم ہوئی۔ تیسرا یہ کہ پالیسی سازی میں زراعت، زمین کے حقوق اور دیہی صنعتوں کی ہم آہنگی پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ دیہی علاقوں کی سماجی و اقتصادی بازیابی مستقل بنیادوں پر ممکن ہو سکے۔ تاہم طویل مدتی کامیابی کے لیے ماحولیاتی تحفظ، نوجوان محنت کشوں کی واپسی اور صنعتی اپ گریڈیشن کو عملی جامہ پہنایا جانا ضروری ہے۔

یہ پالیسیاں اور یہ کامیابیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ چین کو اپنے دیہی علاقوں کی ترقی کا احساس ہے اور چین سمجھتا ہے کہ ان علاقوں میں رہنے والوں کی خوشحالی اور ان کی ترقی ہی  بنیادی طور  چین میں  فرد کی خوشحالی اور ترقی  کا پیمانہ ہے۔دیہات میں رہنے والے یہ افراد خوشحال ہوں  گے تو اس سے نہ صرف ان کے علاقے پر اثر ہو گا بلکہ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر ہوگا۔جس انداز میں چین کے دیہات ترقی خوشحالی اور کامیابیوں کے زینے قدم بہ قدم  چڑھ رہے ہیں لگتا ہے کہ فطرت کا حسن ،اس کی خوبصورتی اور سکون کا احساس ایک نئی شکل اختیار کرے گا ۔

 

Comments (0)
Add Comment