اسلام آباد: آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن (اپسکا) نے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش انتظامی، قانونی اور عملی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (PIERA) ڈاکٹر غلام علی ملاح کو تفصیلی خط دے دیا ہے جس میں متعدد اہم مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کی تجاویز شامل ہیں
۔یہ خط گزشتہ روز آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد کی چیئرمین پیراسے ملاقات کے موقع پر دیا گیا۔اس موقع پر وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے کی۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج،نائب صدر جاوید اقبال راجہ،فیڈرل بورڈ بی او جی ممبرز پروفیسر مہر خان مغل،ڈاکٹر رخسانہ خان کے علاوہ ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما انتخاب حسین،قاسم عباس،محمد ابراہیم،شوکت علی اعوان،اشرف علی اور میڈم سعدیہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔اپسکا کے مطابق نجی تعلیمی ادارے ملک میں تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم حالیہ پالیسیوں اور انتظامی طریقہء کار کے باعث اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔رجسٹریشن اور تجدیدِ رجسٹریشن کی مقررہ مدت ختم ہوتے ہی جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں جبکہ ماضی میں ساٹھ روز کی رعایتی مدت فراہم کی جاتی تھی، تعلیمی اداروں کو سہولت دینے کے لیے دوبارہ مناسب مدت دی جائے۔ انسپیکشن سسٹم کو مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسکولوں کو معائنے سے کم از کم تین ورکنگ دن قبل آگاہ کیا جائے اور انسپیکشن کے بعد رجسٹریشن یا تجدیدی سرٹیفکیٹ بروقت جاری کیے جائیں تاکہ انتظامی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔سکولوں کی رجسٹریشن کی مدت کم از کم تین سال آن لائن رجسٹریشن اور تجدیدی فارم کو سادہ اور صارف دوست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اساتذہ کے شناختی کارڈ نمبرز سمیت غیر ضروری معلومات ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے اسکولوں میں بار بار مہمات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جن کے باعث والدین کی آمد اور انتظامی امور متاثر اور تعلیمی ماحول میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ایسوسی ایشن نے فلاحی تعلیمی اداروں کے لیے انسپیکشن اور رجسٹریشن فیس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ماضی میں یہ ادارے فیس سے مستثنیٰ تھے۔ اسی طرح آؤٹ آف اسکول چلڈرن پراجیکٹ سے متعلق نجی تعلیمی اداروں کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ناگزیر ہے۔سی ڈی اے یا دیگر اداروں کی جانب سے اسکولوں کو نوٹسز اور عدالتی کارروائی کی صورت میں پیرا فریق بنے اور نجی تعلیمی اداروں کو مکمل قانونی و انتظامی معاونت فراہم کرے تاکہ اسکول تنہا قانونی مسائل کا سامنا نہ کریں۔ پالیسی سازی اور فیصلوں میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مؤثر، قابلِ عمل اور باہمی مفاد پر مبنی فیصلے ممکن ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیرا کے ملازمین کو درپیش ماضی کی ملازمت کے عدم تحفظ اور تنخواہوں میں تاخیر جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ مستقبل میں ایسے مسائل دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے۔وفدنے امید ظاہر کی ہے کہ چیئرمین پیرا نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔