ماحول دوستی اور ترقی ایک دوسرے کی ضد نہیں ،تکمیل ہیں

 

اعتصام الحق ثاقب

 

گزشتہ چند برسوں میں اگر چین کی ماحولیاتی پالیسیوں کو غور سے دیکھا جائے تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ چین اب محض صنعتی ترقی پر نہیں بلکہ قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحول کے توازن پر بھی سنجیدگی سے توجہ دے رہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ویٹ لینڈز کا تحفظ اور بحالی ہے، جو آج چین کی ماحولیاتی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

ویٹ لینڈ زمین کے اُن ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں جو بظاہر خاموش اور سادہ نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت ان کی اہمیت بہت زیادہوتی ہے ۔ یہ علاقے نہ صرف پانی کو ذخیرہ اور صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ سیلاب کی شدت کم کرنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، اور مقامی آب و ہوا کو متوازن رکھنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ویٹ لینڈز کو ’’ نیچرل لنگس ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ چین نے اس حقیقت کو بروقت سمجھا اور حالیہ برسوں میں ان کے تحفظ کو قومی ترجیح بنا لیا۔

چین کی نیشنل فارسٹ اینڈ گراس لینڈ ایڈمنسٹریشن کے مطابق چین کا کل ویٹ لینڈ رقبہ اب ایشیا میں پہلے اور دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ ایک

طویل المدتی وژن کا نتیجہ ہے۔ چین نے ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے قانونی بنیاد کو مضبوط کیا۔ متعلقہ قوانین اور ضوابط نافذ کیے گئے اور حکمرانی کے نظام کو بہتر بنایا گیا تاکہ تحفظ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ عملی سطح پر بھی نظر آئے۔ اس وقت تک 21 صوبائی سطح کے علاقوں نے اپنے ہاں ویٹ لینڈ کے تحفظ سے متعلق قوانین تشکیل دیے یا ان میں ترامیم کی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی پالیسی کو مقامی سطح پر بھی سنجیدگی سے اپنایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ درجہ بندی کا ایک انتظامی نظام قائم کیا گیا ، جس کے تحت مختلف سطحوں پر اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز کی نشاندہی کی گئی ۔ 82 مقامات کو بین الاقوامی اہمیت کے ویٹ لینڈز قرار دیا گیا ، جبکہ 80 مقامات قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 1,208 صوبائی سطح کے اہم ویٹ لینڈز کی شناخت کی جا چکی ہے۔ اس درجہ بندی کا فائدہ یہ ہوا کہ ہر سطح پر تحفظ، نگرانی اور وسائل کی فراہمی کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکا۔

ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ چین نے ویٹ لینڈز کو صرف محفوظ علاقوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں شہری زندگی سے بھی جوڑا ہے۔ ملک میں اس وقت 22 بین الاقوامی ویٹ لینڈز شہر موجود ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ شہر اس بات کی مثال ہیں کہ ترقی اور فطرت ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ اسی طرح 903 قومی ویٹ لینڈ پارکس قائم کیے

گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد عوام کے لیے مفت ہیں۔ یہ پارک سالانہ تقریباً 320 ملین افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، جس سے ایک طرف عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار ہو رہا ہے تو دوسری طرف مقامی معیشت کو بھی سہارا مل رہا ہے۔

بحالی کے عملی اقدامات کے حوالے سے چین کی کارکردگی خاصی متاثر کن ہے۔ 3,800 سے زائد بحالی کے منصوبوں کے ذریعے دس لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ یا تو بحال کیا گیا ہے یا نئے سرے سے ویٹ لینڈز میں شامل کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں خاص طور پر مینگروو جنگلات کی بحالی اور حملہ آور پودوں پر قابو پانے جیسے ہدف شدہ اقدامات شامل ہیں۔ مینگروو جنگلات ساحلی علاقوں میں قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں، جو طوفانوں اور سمندری کٹاؤ سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ چین میں 9,200 ہیکٹر نئے مینگروو جنگلات کا اضافہ ایک بڑی ماحولیاتی کامیابی ہے۔

اسی طرح حملہ آور پودا Spartina alterniflora، جو مقامی نباتات کے لیے خطرہ بن چکا تھا، اسے 97,300 ہیکٹر رقبے سے مؤثر طریقے سے ہٹایا گیا ہے۔ اس اقدام سے مقامی حیاتیاتی تنوع کو بحال کرنے میں مدد ملی اور آبی پرندوں و دیگر جانداروں کے قدرتی مسکن محفوظ ہوئے۔

ان تمام اقدامات کے ماحولیاتی فوائد واضح ہیں۔ ویٹ لینڈز کی بحالی سے پانی کے ذخائر بہتر

ہوئے، زیرِ زمین پانی کی سطح مستحکم ہوئی، اور کاربن جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی ماحولیاتی نظام مضبوط ہوا بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں ماہی گیری، سیاحت اور دیگر قدرتی وسائل پر مبنی روزگار کے مواقع بڑھے، جس سے سماجی اور معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے۔

آنے والے برسوں کے لیے چین کا منصوبہ بھی اتنا ہی واضح ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران چین ویٹ لینڈز سے متعلق قانونی اور ضابطے کا فریم ورک مزید بہتر بنانے، نگرانی اور ابتدائی انتباہی نظام مضبوط کرنے پر کام کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے تحفظ کو معاشی ترقی سے جوڑنے کی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔

چین میں ویٹ لینڈز کے تحفظ اور بحالی کے اقدامات محض ماحولیاتی منصوبے نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہیں ۔ایسی سوچ جو یہ مانتی ہے کہ پائیدار ترقی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ہی ممکن ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو چین نہ صرف اپنے قدرتی ورثے کو محفوظ رکھ سکے گا بلکہ دنیا کے لیے ایک عملی مثال بھی قائم کرے گا کہ ماحول دوستی اور ترقی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

چین کی ترقی: اعداد و شمار کے پیچھے سمت

Comments (0)
Add Comment