ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے

زہرا غنبری—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

ایران کی عدلیہ نے ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا غنبری کے ضبط شدہ اثاثے بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی عدالت نے یہ فیصلہ زہرا غنبری کے رویے میں تبدیلی اور بے گناہی کے اعلان کے بعد کیا ہے۔

زہرا غنبری ان 6 کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے رواں سال مارچ میں آسٹریلیا میں ایشین کپ کے دوران پناہ لینے کی درخواست دی تھی تاہم بعد میں اُنہوں نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ایران واپسی کا اعلان کیا تھا۔

آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے اس سے قبل کہا تھا کہ کھلاڑیوں کو ایران واپسی پر ممکنہ سزا کے خدشے کے پیشِ نظر پناہ کی پیشکش کی گئی تھی، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب ٹیم نے ایک میچ میں قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کیا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد کچھ کھلاڑیوں کو ’غدار‘ قرار دے کر اِن کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے جن میں زہرا غنبری کا نام بھی شامل تھا۔

دوسری جانب وطن واپس آنے والی کھلاڑیوں نے شدید دباؤ کا انکشاف کیا تھا، ایک کھلاڑی مونا حمودی کے مطابق ہر فیصلہ خوف اور نتائج کے خدشات سے جڑا ہوا تھا جس نے ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا۔

واضح رہے کہ ایشین کپ کے دوران ایرانی ٹیم کے ترانہ نہ پڑھنے کے عمل کو بعض حلقوں نے حکومت کے خلاف احتجاج قرار دیا تھا جبکہ بعد میں کھلاڑیوں کی جانب سے ترانہ پڑھنے پر سوالات بھی اُٹھے۔

عرب میڈیا کے مطابق اس وقت بھی 2 ایرانی کھلاڑی آسٹریلیا میں ہی موجود ہیں اور مقامی کلب کے ساتھ ٹریننگ کر رہی ہیں۔

'; $('.fb-video').parent('.embed_external_url').html(htmla); } else{ let embed_url = $('.fb-video').attr('data-href'); let htmla="
'; } } var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694"; document.body.appendChild(scriptElement); } } },100); var story_embed_gallery = $('.detail_gallery').find('.embedgallery').length; if(story_embed_gallery > 0){ var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/swiper-bundle.min.css"; document.head.appendChild(styleElement); var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/colorbox.css"; document.head.appendChild(styleElement); } if($("#forminator-iframe").length > 0){ const iframe = document.getElementById('forminator-iframe'); var changeHeight = 0; window.addEventListener('message', (event) => { if (event.origin === 'https://surveys.immcorporate.com') { var { height } = event.data; //$("#forminator-iframe").before('
height:'+height+'
'); if(height > 150){ height = height + 5; if($("#forminator-iframe").height() != height && changeHeight == 1){ $('html, body').animate({ scrollTop: ($("#forminator-iframe").offset().top)-30 }, 600); $('.detail-page').focus(); } iframe.style.height = height + 'px'; } changeHeight = 1; } }); } if($("#theNewsWidget").length > 0){ /*$("#theNewsWidget").load("https://www.thenews.com.pk/get_entertainment_news_widget");*/ //$("#theNewsWidget").load("https://gadinsider.com/latest-posts/mobile-news"); //$("#theNewsWidget").load("https://jang.com.pk/jang_english_news"); /*$.ajax({ url : "https://jang.com.pk/assets/uploads/gadinsider/posts.txt", dataType: "text", cache: false, success : function (data) { $("#theNewsWidget").html(data) //console.log(data) } });*/ }

PNP