سابق ویسٹ انڈین فاسٹ بولر کورٹنی والش نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ معیاری فاسٹ بولرز پیدا ہوتے رہے ہیں، شاہین آفریدی مکمل بولر ہیں۔
کراچی میں ’جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں فاسٹ بولرز کی کامیابی کے پیچھے یہاں کے حالات اور مہارت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کورٹنی والش ان دنوں پاکستان سپر لیگ میں راولپنڈیز کی فرنچائز کے کوچنگ اسٹاف کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے معیاری فاسٹ بولرز موجود رہے ہیں، ماضی میں سرفراز نواز، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جبکہ نوجوان کھلاڑی بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
شاہین آفریدی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کورٹنی والش نے کہا کہ ان کے کھیلنے کے انداز، رویے اور پاکستان کے لیے کھیلنے کے جذبے سے بہت متاثر ہوں۔
کورٹنی والش نے کہا کہ شاہین ایک ایسے بولر ہیں جو اپنی بنیادی چیزوں پر توجہ دیتے ہیں اور مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتے ہیں، جو کسی بھی فاسٹ بولر کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔
انہوں نے پاکستان کے دیگر نوجوان فاسٹ بولرز کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان میں بھی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور وہ مستقبل میں مزید بہتر کریں گے۔
کورٹنی والش نے پاکستان سپر لیگ میں اپنے تجربے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرنچائز کرکٹ میں کوچنگ کا انداز مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہاں وقت کم ہوتا ہے اور کوچز کو فوری طور پر ٹیم کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے۔
کورٹنی والش نے کہا ہے کہ کھلاڑی پہلے ہی پروفیشنل ہوتے ہیں، اس لیے کوچنگ کے بجائے زیادہ تر رہنمائی اور گفتگو پر توجہ دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں ماحول بہت اچھا ہے اور کھلاڑیوں کا رویہ بھی مثبت ہے، اگرچہ ان کی ٹیم کے نتائج ابھی توقعات کے مطابق نہیں لیکن وہ بہتر کارکردگی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
کورٹنی والش نے کہا کہ یہ فارمیٹ بیٹرز کے لیے زیادہ سازگار ہے، تاہم اس کے باوجود فاسٹ بولرز نے خود کو اس کے مطابق ڈھال لیا ہے اور اپنی مہارت سے نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید کرکٹ میں بولرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج رنز کو کنٹرول کرنا ہے کیونکہ شائقین زیادہ اسکور اور بڑے چھکے دیکھنا چاہتے ہیں، ایسے میں وہی بولرز کامیاب ہوتے ہیں جو باؤنڈریز کو محدود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سابق ویسٹ انڈین بولر نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کھلاڑی اب طویل فارمیٹ کے بجائے مختصر فارمیٹ کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ مالی فوائد اور کم وقت میں زیادہ مواقع ہیں، جبکہ اگر ٹیسٹ کرکٹ کو برقرار رکھنا ہے تو اس کی بہتر مارکیٹنگ اور کھلاڑیوں کے لیے مراعات بڑھانے کی ضرورت ہے۔
نوجوان فاسٹ بولرز کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے محنت، ڈسپلن اور تسلسل نہایت ضروری ہیں، جو کھلاڑی مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرتے ہیں، وہی آگے بڑھتے ہیں۔
اپنی ٹیم کے نوجوان بولر رضا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں رفتار اور صلاحیت موجود ہے، تاہم اسے اپنا کنٹرول بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور مستقبل میں وہ ایک اچھا بولر بن سکتا ہے۔