لاہور (پی این پی) پنجاب پولیس میں تعینات لیڈی کانسٹیبل کے مبینہ اغواء کیس کا ڈراپ سین ہو گیا۔
تحقیقات کے مطابق لیڈی کانسٹیبل عائشہ نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور اغواء کا مقدمہ بے بنیاد ثابت ہوا۔ لیڈی کانسٹیبل عائشہ کے مطابق انہیں کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر شادی کی۔انوسٹی گیشن پولیس کا کہنا ہے کہ لیڈی کانسٹیبل کے بیان کی روشنی میں مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ قلعہ گجر سنگھ میں ڈیوٹی پر تعینات لیڈی پولیس کانسٹیبل عائشہ کے مبینہ اغواء کا مقدمہ انکے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ایف آئی آر کے مطابق کانسٹیبل عائشہ گھر سے ڈیوٹی کے لیے نکلی تھیں لیکن اپنے ڈیوٹی پوائنٹ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ نہ پہنچ سکیں۔ عائشہ کی ڈیوٹی رات 11بجے سے صبح 7بجے تک مقرر تھی۔
PNP