ایکسپریس ایکسلوزیو کی تازہ ترین پوڈ کاسٹ میں بھارتی فلم ’دھرندھر 2‘ کے حوالے سے بالی ووڈ کے اسکرپٹ میں موجود تضادات اور تکنیکی خامیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔
فلمی نقاد آفتاب خان کا کہنا ہے کہ یہ فلمیں سینما سے زیادہ کسی ’ایجنڈے‘ کے تحت را (RAW) کے دفتر میں تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں۔
تکنیکی غلطیاں اور ’ہوم ورک‘ کی کمی
آفتاب خان نے فلم کے تکنیکی پہلوؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ اب بھی پاکستان کے حوالے سے پرانے خیالات کا شکار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فلم کے ایک سین میں گاڑیاں 80 کی دہائی کی دکھائی گئی ہیں، جبکہ اگلے ہی سین میں 2010 اور پھر اچانک 2025 کا انفرااسٹرکچر دکھا دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایسا لگتا ہے فلم بنانے والوں نے ذرہ برابر بھی ہوم ورک نہیں کیا اور محض نفرت پھیلانے کے لیے سستی ڈرامہ بازی کا سہارا لیا گیا ہے۔‘‘
لیاری اور پاکستانی کلچر کی غلط عکاسی
گفتگو کے دوران لیاری کے حوالے سے دکھائے گئے مناظر پر بھی بات کی گئی۔ آفتاب خان نے کہا کہ فلم میں لیاری کا جو ’کاسٹیوم‘ دکھایا گیا ہے، وہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ بالی ووڈ آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہر پاکستانی نیٹ والی ٹوپی پہنتا ہے اور کندھے پر رومال رکھتا ہے۔ ’’لیاری میں دکھائے گئے دودھ سوڈا کے کھوکھے کراچی میں کہیں موجود نہیں، یہ کلچر شاید پنجاب یا لاہور کا ہوسکتا ہے لیکن اسے کراچی کے نام پر غلط طور پر پیش کیا گیا۔‘‘
چوہدری اسلم کی شہادت اور جھوٹا بیانیہ
فلم میں شہید پولیس آفیسر چوہدری اسلم کے کردار اور ان کی شہادت کے واقعے کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر بحث کی گئی۔ آفتاب خان نے واضح کیا کہ فلم میں دکھایا گیا بیانیہ کہ یہ حملہ بلوچوں نے کیا، سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حقیقت میں اس بزدلانہ حملے کی ذمے داری طالبان نے قبول کی تھی، لیکن بالی ووڈ اسے ایک خاص ایجنڈے کے تحت ’فالس فلیگ‘ (False Flag) آپریشنز کے طور پر دکھا رہا ہے۔
حسن جہانگیر کا گانا اور رائلٹی کا تنازع
رپورٹ میں حسن جہانگیر کے مشہورِ زمانہ گانے ’ہوا ہوا‘ کی شمولیت پر بھی بات ہوئی۔ آفتاب خان کے مطابق، گلشن کمار نے اس گانے کو ساتویں بار اپنی فلم میں شامل کیا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اور ٹھوس مواد نہیں تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت حسن جہانگیر کو اس کی رائلٹی ڈالرز میں مل رہی ہے، جس کا فائدہ پاکستانی آرٹسٹ کو ضرور ہوا ہے، لیکن بالی ووڈ نے اسے محض اپنی فلم کو ’بوسٹ‘ کرنے کے لیے استعمال کیا۔
بھارتی اسٹارز اور حکومتی دباؤ
بالی ووڈ اسٹارز جیسے عامر خان، سنجے دت اور رنبیر سنگھ کے حوالے سے آفتاب خان نے کہا کہ یہ بڑے فنکار اکثر حکومتی اور انتہا پسندانہ دباؤ کے سامنے ’بے بس‘ نظر آتے ہیں۔ عامر خان کے حوالے سے ایک پرانے انٹرویو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب ان سے پاکستان مخالف بیان پر سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کی اور پاکستان سے اپنے خاندانی تعلقات کا حوالہ دیا۔ تاہم، مودی حکومت (گودی میڈیا) کے دور میں فنکاروں کو زبردستی ایسے اسکرپٹ کا حصہ بننا پڑتا ہے جو نفرت پر مبنی ہوں۔
پاکستانی سینما کو کیا کرنا چاہیے؟
پروگرام کے اختتام پر آفتاب خان نے کہا کہ ہمیں اس ڈیجیٹل جنگ کا جواب فلموں کے ذریعے ہی دینا ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی فلم سازوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ حقیقت پر مبنی ’ایشو بیسڈ‘ (Issue Based) فلمیں بنا سکیں اور دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر ہم ایسی جھوٹی فلم بناتے تو پاکستانی عوام اسے کبھی قبول نہ کرتے، کیونکہ ہماری خوبصورتی سچائی میں ہے۔‘‘
PNP