جنازہ اٹھا، قبر کھدی، دعائیں ہوئیں اور کہانی ختم سمجھی گئی، مگر 17 دن بعد ملبے تلے سے ایک آوازآئی "میں ابھی زندہ ہوں” اور سب کچھ بدل گیا۔
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ حقیقت سے جڑی ایک ایسی داستان ہے جس نے دو گھرانوں کی دنیا ہی بدل دی 17دن بعد ماربل کی کان کے ملبے تلے سے مزدور عبدالوہاب زندہ نکل آیا۔
اندھیرا، بھوک، پیاس اور موت کا مسلسل خطرہ رہا مگر ایک باہمت مزدور نے ہار نہیں مانی، کیونکہ یہ کہانی ہے عبدالوہاب کی، جس نے ملبے کے نیچے بھی جینا نہیں چھوڑا۔
مردان میں 31 مارچ کو پہاڑی تودہ گرا، کئی مزدور مٹی اور بھاری پتھروں تلے دب گئے، لیکن عبدالوہاب کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
عبدالوہاب کے گھر پہنچنے پر علاقہ مکینوں کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا، اس پر پھول نچھاور کیے گئے، گلے لگایا گیا، عبدالوہاب کے گھر میں آج ماتم نہیں، خوشی ہے، آنسو ہیں مگر مسکراہٹ کے ساتھ، اہلخانہ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں، کیونکہ جسے کھو چکے تھے، وہ واپس آ گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ ایک انتہائی مشکل اور طویل آپریشن تھا، جہاں ہر گزرتا لمحہ امید کو کمزور کر رہا تھا، مگر یہ کہانی صرف خوشی کی نہیں۔
اسی ملبے تلے ایک اور گھر کی امیدیں بھی دفن ہو گئیں، جس شخص کی تلاش جاری تھی، وہ دراصل خیبر تھا، اس کے گھر والے اپنے پیارے کے انتظار میں تھے، مگر ملبے سے عبدالوہاب نکلا اور یہ انکشاف ہوا کہ جس مسخ شدہ لاش کی تدفین ہو چکی، وہ خیبر کی تھی۔
یہ واقعہ ایک طرف زندگی کی جیت ہے تو دوسری طرف ایک دردناک جدائی جہاں ایک گھر میں خوشی لوٹی، وہیں دوسرے گھر میں غم نے ڈیرہ ڈال لیا اوریہ سوالات چھوڑ دیے ہیں کہ کہ کان کنی جیسے خطرناک کام میں حفاظتی اقدامات، بروقت ریسکیو اور درست شناخت کتنی ضروری ہے، کیونکہ یہاں ہر سانس قیمتی ہے۔
';
$('.fb-video').parent('.embed_external_url').html(htmla);
}
else{
let embed_url = $('.fb-video').attr('data-href');
let htmla="
';
}
}
var scriptElement=document.createElement('script');
scriptElement.type="text/javascript";
scriptElement.setAttribute="async";
scriptElement.src="https://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694";
document.body.appendChild(scriptElement);
}
}
},100); var story_embed_gallery = $('.detail_gallery').find('.embedgallery').length;
if(story_embed_gallery > 0){
var styleElement=document.createElement('link');
styleElement.type="text/css";
styleElement.rel="stylesheet";
styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/swiper-bundle.min.css";
document.head.appendChild(styleElement);
var styleElement=document.createElement('link');
styleElement.type="text/css";
styleElement.rel="stylesheet";
styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/colorbox.css";
document.head.appendChild(styleElement);
}
if($("#forminator-iframe").length > 0){
const iframe = document.getElementById('forminator-iframe');
var changeHeight = 0;
window.addEventListener('message', (event) => {
if (event.origin === 'https://surveys.immcorporate.com') {
var { height } = event.data;
//$("#forminator-iframe").before('
');
if(height > 150){
height = height + 5;
if($("#forminator-iframe").height() != height && changeHeight == 1){
$('html, body').animate({
scrollTop: ($("#forminator-iframe").offset().top)-30
}, 600);
$('.detail-page').focus();
}
iframe.style.height = height + 'px';
}
changeHeight = 1;
}
});
}
if($("#theNewsWidget").length > 0){
/*$("#theNewsWidget").load("https://www.thenews.com.pk/get_entertainment_news_widget");*/
//$("#theNewsWidget").load("https://gadinsider.com/latest-posts/mobile-news");
//$("#theNewsWidget").load("https://jang.com.pk/jang_english_news");
/*$.ajax({
url : "https://jang.com.pk/assets/uploads/gadinsider/posts.txt",
dataType: "text",
cache: false,
success : function (data) {
$("#theNewsWidget").html(data)
//console.log(data)
}
});*/
}