اسلام آباد (پی این پی)بھارت میں ایک کمسن بچی کو انتہائی مہنگا اور جان بچانے والا انجیکشن لگا دیا گیا،
جس کی قیمت تقریباً 16 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بچی کو ایک نایاب جینیاتی بیماری لاحق تھی، جس کے علاج کے لیے مہنگے انجیکشن کی ضرورت تھی۔ خاندان کے محدود وسائل کے باعث علاج ممکن نہیں تھا، تاہم عوامی تعاون اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے مطلوبہ رقم اکٹھی کی گئی۔یہ فنڈنگ ایک کراؤڈ فنڈنگ مہم کے ذریعے ممکن ہوئی، جس کا آغاز ایک اخباری رپورٹ سے ہوا جس میں بچی کے والدین کی مشکلات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک بھر سے لوگوں نے دل کھول کر مالی مدد فراہم کی۔بچی کو “اسپائنل مسکولر ایٹروفی ٹائپ ون” نامی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی، جو پٹھوں کی کمزوری اور حرکت میں شدید کمی کا سبب بنتی ہے۔
ڈاکٹروں نے اسے “زولگینسما” نامی انجیکشن لگایا، جو اس بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔بچی کے والدین کے مطابق پیدائش کے چند ماہ بعد ہی انہوں نے بیٹی کی جسمانی حرکات میں کمی محسوس کی، جس پر ٹیسٹ کروائے گئے اور بیماری کی تصدیق ہوئی۔ اس خبر نے انہیں شدید ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیا، تاہم ڈاکٹروں نے بروقت علاج کی امید دلائی۔رپورٹس کے مطابق کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے تقریباً 10 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جبکہ باقی رقم کے لیے مزید کوششیں کی گئیں۔ اس موقع پر آندھرا پردیش کے وزیر نارا لوکیش نے بھی مدد کا اعلان کیا اور بیرون ملک سے انجیکشن منگوانے کے عمل میں تعاون کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں جلد علاج انتہائی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ بروقت انجیکشن لگنے سے بچے کی صحت اور معیار زندگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
PNP