ماتلی (پی این پی)سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، ایک ہفتے کے دوران تیسری بار آٹے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
جس کے بعد 40 کلو آٹے کا تھیلا ایکس مل حیدرآباد میں 4500 روپے تک پہنچ گیا ہے، جس سے روزمرہ استعمال کی اس بنیادی ضرورت کی خریداری عام آدمی کے لیے مزید مشکل ہو گئی ہے، مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی قیمت بھی اوپن مارکیٹ میں بڑھ کر 4000 روپے فی من تک جا پہنچی ہے، جس کی بڑی وجہ آڑھتیوں اور بروکروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی کو قرار دیا جا رہا ہے، دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے گندم کی سرکاری خریداری کا نرخ 3500 روپے فی من مقرر ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں زیادہ قیمت ملنے کے باعث کاشتکار سرکاری نرخ پر فروخت سے گریز کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری خریداری مراکز پر گندم کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے،
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے فرق کے باعث انہیں فی من تقریبا 500 روپے تک نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سرکاری خریداری مراکز کی دوری اور بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات نے بھی ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے، معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آٹے اور گندم کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے اور عام صارف کو ریلیف مل سکے۔
PNP