اسلام آباد (پی این پی) انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے مبینہ ’’مارخور‘‘ لوگو کے خالق شہزاد نواز سے منسوب ایک پرانا انٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں انہوں نے اس ڈیزائن کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔
انٹرویو میں شہزاد نواز کا کہنا تھا کہ وہ خود کو قومی خدمت کا حصہ سمجھتے ہیں اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے یہ کام انجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹری کالج میں کامیاب نہ ہونے کے بعد ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید ابھرنے کا موقع ملا، جس کے بعد انہوں نے ایک مختلف انداز میں ملک کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ وہ اپنے خاندان میں واحد سویلین تھے، اس لیے انہوں نے ایسا کام کرنے کا ارادہ کیا جو روایتی فوجی خدمات سے ہٹ کر ہو، اور اسی سوچ کے تحت انہیں یہ موقع ملا جسے انہوں نے فخر کے ساتھ قبول کیا۔لوگو میں مارخور کے انتخاب کے حوالے سے شہزاد نواز نے بتایا کہ انہوں نے مختلف عالمی خفیہ اداروں جیسے سی آئی اے، موساد، این ڈی ایس اور ایم آئی سکس کے لوگوز کا جائزہ لیا۔
ان کے مطابق ابتدائی ڈیزائن آئی ایس پی آر کے لوگو سے ملتا جلتا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے قومی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے مارخور کو شامل کیا، کیونکہ یہ پاکستان کا قومی جانور ہے اور اپنی خاص خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارخور کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ سانپ کو بھی شکار کر لیتا ہے، جسے انہوں نے علامتی طور پر استعمال کیا۔ تاہم اس انتخاب پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔
شہزاد نواز نے کہا کہ جب انہوں نے یہ ڈیزائن سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو اس کے ساتھ انہوں نے مارخور کی اسی خصوصیت کا حوالہ بھی دیا تھا، جس نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔
ملیے آئی ایس آئی کا لوگو مارخور بنانے والے جوان سے 💕👌🔥#BunyanUmMarsoos pic.twitter.com/UlzAntKBQ9
— Muzamil (@muzamil_45) May 4, 2026
PNP