یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے

اسلام آباد (پی این پی) ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

صورتحال کے باعث سیکڑوں پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ اوورسیز ایمپلائز پروموٹرز بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پروموٹرز نے برسوں سے سکیورٹی کی مد میں اربوں روپے متحدہ عرب امارات میں جمع کرا رکھے ہیں، تاہم موجودہ حالات کے بعد انہیں مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے بھی خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔

اوورسیز ایمپلائز پروموٹر ایسوسی ایشن کے رہنما اظہر اقبال نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے بعد خاص طور پر دبئی میں پاکستانیوں کے لیے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانیوں کے ویزے پہلے ہی محدود تھے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد متعدد افراد کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی پاکستانی واپس آ چکے ہیں، بعض کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہو گئے ہیں جبکہ مختلف کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ملازمت کے معاہدے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروموٹرز نے نہ صرف بیرون ملک سکیورٹی کی مد میں بڑی رقوم جمع کرائی ہیں بلکہ پاکستان میں لائسنسنگ کے لیے بھی حکومت کو خطیر رقم ادا کی گئی ہے۔
اظہر اقبال کے مطابق لاکھوں پاکستانی بیرون ملک کام کرکے ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں، لیکن موجودہ بحران کے باوجود حکومتی سطح پر سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دبئی، شارجہ اور بحرین سمیت مختلف مقامات پر قائم دفاتر غیر فعال ہو چکے ہیں۔ ہزاروں پاکستانیوں سے ویزا، ٹکٹ اور دیگر مدات میں وصول کی گئی رقوم کے باوجود اب انہیں روزگار میسر نہیں آ رہا کیونکہ بیشتر ملازمتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی دیگر ممالک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر حکومت کی جانب سے افرادی قوت کی منتقلی اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ میں کمی ملکی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ موجود مسائل کو جلد از جلد حل کرے۔

PNP