’معرکہ حق، یومِ فتح‘ کے موقع پر تقریب، پاکستانی کمیونٹی پرجوش، مقررین کا قومی یکجہتی پر زور

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں ’معرکہ حق، یومِ فتح‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی جس کے میزبان کمیونٹی رہنما حفیظ خان تھے جس میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ہال گنجائش سے بھر گیا جبکہ تقریب کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’پاک فوج زندہ باد‘ کے فلک شگاف نعرے مسلسل گونجتے رہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر سندھ سید نہال ہاشمی اور اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا تھے جبکہ ہیوسٹن سے وائس قونصل جنرل عشر شہزاد، تنویر احمد سمیت ڈیلس کی ممتاز سماجی، کاروباری اور صحافتی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

اپنے خطاب میں سید نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کبھی غلام نہیں رہا بلکہ ہمارے آباؤ اجداد غلام تھے اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی قیادت اور نظریے کے ذریعے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن دیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ نظریہ ہی قوموں کی اصل طاقت ہوتا ہے اور اگر قومیں اپنے نظریے سے دور ہوجائیں تو ان کا مقصدِ حیات ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو ’نصر من اللّٰہ و فتح قریب‘ کا درس دیا اور جب قومیں اللّٰہ کی رسی مضبوطی سے تھام لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔

انہوں نے حالیہ قومی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دشمن کو ایسا جواب دیا کہ دنیا حیران رہ گئی اور دشمن کے جہاز قطار در قطار زمین بوس ہوتے گئے۔

نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا جبکہ بعد کی قیادتوں نے اس مشن کو مکمل کیا اور نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ آج دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

انہوں نے ایم ایم عالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فضائیہ نے تاریخ میں ایسے کارنامے انجام دیے جنہیں دنیا آج بھی یاد کرتی ہے۔ ایک پاکستانی پائلٹ نے دشمن کے کئی جہاز چند لمحوں میں تباہ کر کے تاریخ رقم کی۔

خطاب کے دوران سید نہال ہاشمی اس وقت جذباتی اور آبدیدہ ہوگئے جب انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’2047 میں جب پاکستان کی 100ویں سالگرہ منائی جائے گی تو آپ میں سے کوئی گورنر ہوگا، کوئی وزیراعظم ہوگا۔ اگر اس وقت بھی آپ کے ہاتھ میں کشکول ہوا تو مرگیا تو میری روح بھی بےچین ہوگی، اور میں اس ہی دن مر جاؤنگا۔‘

گورنر سندھ نے نوجوانوں سے سوال کیا کہ ’ہم نے بھارت کو فوجی میدان میں شکست دی، کیا آپ اسے معاشی میدان میں شکست دے سکتے ہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب اصل جنگ آئی ایم ایف اور معاشی غلامی کے خلاف لڑنی ہے۔

اس موقع پر اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ قومی معرکے نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بقول فیلڈ مارشل پاکستان کے پاس یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ بھارت کے مزید طیارے بھی تباہ کر سکتا تھا، مگر پاکستان نے ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محدود جواب دیا اور صرف چھ جہاز گرائے، جس نے دنیا کو پاکستان کی طاقت کے ساتھ اس کے تحمل اور ذمہ دارانہ رویے کا بھی پیغام دیا۔

سید قمر رضا نے اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی معاشی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر قانونی ذرائع سے وطن بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس 38.3 بلین ڈالر پاکستان بھیجے گئے جبکہ رواں برس 41 بلین ڈالر سے زائد ترسیلات زر کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اوورسیز پاکستانی صرف قانونی ذرائع سے رقوم بھیجنے کا عزم کر لیں اور ترسیلات زر 60 بلین ڈالر تک پہنچ جائیں تو پاکستان آئی ایم ایف پروگرام سے نکل سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی دراصل پاکستان کے سفیر ہیں، جو دنیا بھر میں اپنی محنت اور کردار کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اُجاگر کر رہے ہیں۔

تقریب کے میزبان اور معروف صنعتکار عبدالحفیظ خان نے کہا کہ حالیہ کامیابیوں کے بعد دنیا بھر میں پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ پاکستان نے دشمن کو دندان شکن جواب دے کر قوم کے وقار کو نئی بلندی عطا کی ہے۔

معروف صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دنیا کھل کر پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کر رہی ہے۔ ماضی میں ہم نے اپنی شکستوں کے اسباب دوسروں میں تلاش کیے مگر اپنی کمزوریوں کا جائزہ کم لیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک نئی امید جنم لے رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کا خواب دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

'; $('.fb-video').parent('.embed_external_url').html(htmla); } else{ let embed_url = $('.fb-video').attr('data-href'); let htmla="
'; } } var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694"; document.body.appendChild(scriptElement); } } },100); var story_embed_gallery = $('.detail_gallery').find('.embedgallery').length; if(story_embed_gallery > 0){ var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/swiper-bundle.min.css"; document.head.appendChild(styleElement); var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/colorbox.css"; document.head.appendChild(styleElement); } if($("#forminator-iframe").length > 0){ const iframe = document.getElementById('forminator-iframe'); var changeHeight = 0; window.addEventListener('message', (event) => { if (event.origin === 'https://surveys.immcorporate.com') { var { height } = event.data; //$("#forminator-iframe").before('
height:'+height+'
'); if(height > 150){ height = height + 5; if($("#forminator-iframe").height() != height && changeHeight == 1){ $('html, body').animate({ scrollTop: ($("#forminator-iframe").offset().top)-30 }, 600); $('.detail-page').focus(); } iframe.style.height = height + 'px'; } changeHeight = 1; } }); } if($("#theNewsWidget").length > 0){ /*$("#theNewsWidget").load("https://www.thenews.com.pk/get_entertainment_news_widget");*/ //$("#theNewsWidget").load("https://gadinsider.com/latest-posts/mobile-news"); //$("#theNewsWidget").load("https://jang.com.pk/jang_english_news"); /*$.ajax({ url : "https://jang.com.pk/assets/uploads/gadinsider/posts.txt", dataType: "text", cache: false, success : function (data) { $("#theNewsWidget").html(data) //console.log(data) } });*/ }

PNP