معطلی و کمروں کی چیکنگ کا خطرہ بڑھ گیا

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا

بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ 2026ء کے دوران کھلاڑیوں اور ٹیم عہدیداروں کے لیے سخت ضابطے نافذ کر دیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سیکیا کی جانب سے تمام 10 فرنچائزز کو 7 صفحات پر مشتمل ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے۔

ہدایت نامے میں غیر مجاز افراد کے ٹیم کے ہوٹلوں اور کھلاڑیوں کے کمروں تک رسائی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ہدایت نامے میں بی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ نامناسب اور رومانوی تعلقات، بلیک میلنگ اور جنسی بدسلوکی جیسے سنگین معاملات سے بچنے کے لیے اچانک ہوٹل چیکنگ کی جائے گی، بورڈ اور آئی پی ایل انتظامیہ پر مشتمل خصوصی ٹیم کھلاڑیوں کے کمروں اور ہوٹل میں سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی۔

ہدایت نامے کے مطابق کسی بھی کھلاڑی یا آفیشل کے کمرے میں بغیر اجازت کسی شخص کے داخلے کی اجازت نہیں ہو گی چاہے اس کا تعلق کھلاڑی سے ذاتی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو، تمام کھلاڑیوں اور معاون عملے کو ہوٹل سے باہر جانے سے پہلے سیکیورٹی حکام کو اطلاع دینا لازمی ہو گا۔

بی سی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ ضابطوں کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس، جرمانہ، معطلی یا نااہلی جیسی سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق آئی پی ایل کے فرنچائز مالکان کو بھی میچ کے دوران ڈگ آؤٹ میں کھلاڑیوں یا ٹیم مینجمنٹ سے رابطے سے روک دیا گیا ہے۔

دیواجیت سیکیا نے کہا ہے کہ حالیہ سیزن میں کئی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جن میں غیر مجاز افراد کا ٹیم کی بسوں میں سفر، ہوٹلوں میں آمد و رفت اور کھلاڑیوں کے کمروں تک رسائی شامل ہے جو قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ راجستھان رائلز کے منیجر کی جانب سے ڈگ آؤٹ میں موبائل فون استعمال کرنے اور کپتان سنجو سیمسن کے ڈریسنگ روم میں ویپنگ کرنے کے واقعات کے بعد بی سی سی آئی نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی پر کسی بھی کھلاڑی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور  معطل کر دیا جائے گا۔

'; $('.fb-video').parent('.embed_external_url').html(htmla); } else{ let embed_url = $('.fb-video').attr('data-href'); let htmla="
'; } } var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694"; document.body.appendChild(scriptElement); } } },100); var story_embed_gallery = $('.detail_gallery').find('.embedgallery').length; if(story_embed_gallery > 0){ var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/swiper-bundle.min.css"; document.head.appendChild(styleElement); var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/colorbox.css"; document.head.appendChild(styleElement); } if($("#forminator-iframe").length > 0){ const iframe = document.getElementById('forminator-iframe'); var changeHeight = 0; window.addEventListener('message', (event) => { if (event.origin === 'https://surveys.immcorporate.com') { var { height } = event.data; //$("#forminator-iframe").before('
height:'+height+'
'); if(height > 150){ height = height + 5; if($("#forminator-iframe").height() != height && changeHeight == 1){ $('html, body').animate({ scrollTop: ($("#forminator-iframe").offset().top)-30 }, 600); $('.detail-page').focus(); } iframe.style.height = height + 'px'; } changeHeight = 1; } }); } if($("#theNewsWidget").length > 0){ /*$("#theNewsWidget").load("https://www.thenews.com.pk/get_entertainment_news_widget");*/ //$("#theNewsWidget").load("https://gadinsider.com/latest-posts/mobile-news"); //$("#theNewsWidget").load("https://jang.com.pk/jang_english_news"); /*$.ajax({ url : "https://jang.com.pk/assets/uploads/gadinsider/posts.txt", dataType: "text", cache: false, success : function (data) { $("#theNewsWidget").html(data) //console.log(data) } });*/ }

PNP