پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کراچی اور لاہور کے کھانوں سے متعلق جاری بحث پر دلچسپ انداز میں اپنی رائے دے دی۔
سوشل میڈیا پر جاری کراچی بمقابلہ لاہور فوڈ ڈیبیٹ پر بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا ہے کہ لاہور روایتی کھانوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، تاہم کراچی اپنی ثقافت کی وجہ سے کھانوں کی کہیں زیادہ ورائٹی پیش کرتا ہے۔
وسیم اکرم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میں نے سوشل میڈیا پر یہ بحث دیکھی اور لگا کہ کراچی اور لاہور کی جنگ کافی بڑھ گئی ہے، اس لیے شاید میں اس معاملے پر بات کرنے کے لیے درست شخص ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 42 سال لاہور میں گزارے، میری پیدائش بھی وہیں ہوئی اور میں خود لاہوری ہوں، لیکن گزشتہ 14 برس سے کراچی میں رہ رہا ہوں، اس لیے میں اس بحث کو ختم کر سکتا ہوں۔
وسیم اکرم کا یہ بیان سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ان ریمارکس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں انہوں نے لاہور کے کھانوں کو کراچی پر فوقیت دی تھی۔
فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ کراچی کا کھانا ٹھیک ہے، لیکن اس میں لاہور جیسی روایت اور تاریخ نہیں، لاہور کے کئی مشہور فوڈ پوائنٹس ایک صدی سے زائد عرصے سے ایک ہی ذائقہ برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور یہی تاریخ اسے خاص بناتی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ وارث نہاری، جالندھر، فجے کے پائے اور خان بابا جیسے نام برِصغیر کی تاریخ کی جھلک پیش کرتے ہیں، جبکہ کراچی کا فوڈ سین لاہور کے مقابلے میں بچوں کا کھیل لگتا ہے۔
وسیم اکرم نے فواد چوہدری کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ فواد صاحب آپ کراچی کے کس علاقے میں گئے تھے؟ میں 14 سال سے یہاں رہ رہا ہوں، حال ہی میں پی ایس ایل 11 کے فائنلز کے لیے لاہور گیا تو سوچا اپنے پرانے پسندیدہ مقامات کا دوبارہ رخ کروں۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے گلبرگ میں مشہور چنے اور دیگر لاہوری کھانے آزمائے، لیکن سچ کہوں تو ہر چیز میں صرف مرچیں ہی محسوس ہوئیں۔
وسیم اکرم نے کراچی کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی ثقافتی اور نسلی تنوع اس کے کھانوں میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں وارث نہاری اور فجے کے پائے جیسے شاندار مقامات ضرور موجود ہیں، لیکن کراچی میں ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ بستے ہیں، چاہے وہ پختون ہوں، بلوچ ہوں یا پنجابی اور یہی تنوع اس کے کھانوں میں جھلکتا ہے۔
وسیم اکرم کے مطابق کراچی میں ایک ہی ریسٹورنٹ میں مختلف ذائقے اور کئی طرح کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں، جو اس شہر کے فوڈ سین کو منفرد بناتے ہیں۔
انہوں نے لاہور کے کھانوں میں بڑھتی ہوئی مرچوں اور کریم کے استعمال پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم لاہور کا کھانا کھا کر بڑے ہوئے ہیں، لیکن اب لگتا ہے ہر چیز میں حد سے زیادہ مرچیں اور کریم ڈال دی جاتی ہے، پتہ نہیں یہ ٹرینڈ کہاں سے آیا؟
آخر میں وسیم اکرم نے ہنستے ہوئے کہا ہے کہ اگر مجھے اس بحث کا نتیجہ دینا ہو تو میں کہوں گا کہ لاہور کا کھانا بہترین ہے، لیکن کراچی کھانوں کی کہیں زیادہ ورائٹی پیش کرتا ہے، اب لوگ میرے پیچھے بھی پڑ سکتے ہیں۔