لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم

لاہور(پی این پی) لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کو عوامی اور انتظامی عہدوں میں برابری کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم اور عدالتی نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دے دیا ۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے مسمات کلثوم اختر کی درخواست پر سات صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے برادری کی بنیاد پر خاتون امیدوار کے نمبر کم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور بورڈ آف ریونیو کا خاتون کو نمبردار مقرر نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو عوامی عہدوں میں برابر مواقع دینا آئینی تقاضا ہے اور قابل خواتین کو محض سماجی تعصب کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں میں مستقل نمبردار کے انتقال کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا، جس پر درخواست گزار نے نمبردار بننے کے لیے درخواست جمع کرائی۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ اسے برادری کی بنیاد پر جان بوجھ کر صفر نمبر دے کر میرٹ سے باہر کیا گیا حالانکہ اس کے والد بھی اسی گاں کے مستقل نمبردار رہ چکے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر والد اس منصب پر فائز رہ سکتے تھے تو بیٹی کو صرف برادری کی بنیاد پر نااہل قرار دینا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے ازسرنو جائزے کے بعد درخواست گزار کو میرٹ پر پہلے نمبر پر رکھا تھا تاہم ڈپٹی کمشنر نے بعد ازاں برادری کو بنیاد بنا کر اس کے نمبر کم کر دیئے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ نمبردار کی تقرری کسی کا پیدائشی حق نہیں بلکہ ایک عوامی ذمہ داری ہے اور انتظامی اختیارات کو من مانی انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں بورڈ آف ریونیو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ادارہ قانونی تضادات اور میرٹ کے درست جائزے میں ناکام رہا۔عدالت نے محمد اعظم کی بطور مستقل نمبردار تقرری کالعدم قرار دیتے ہوئے مسمات کلثوم اختر کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے متعلقہ ریونیو حکام کو ہدایت کی ہے کہ 30 روز کے اندر تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

PNP