امریکا اور ایران کشیدگی: جنگ بندی پر غیر یقینی، سفارتی رابطے تیز

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک حساس مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ جنگ بندی کے مستقبل اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بے یقینی برقرار ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ممکنہ سیکیورٹی خدشات پر غور کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سمیت اہم فوجی اور انٹیلی جنس حکام شریک ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ دنوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں مزید سفارتی رابطے متوقع ہیں، جبکہ پاکستان کی ثالثی کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں تہران میں اہم ملاقاتیں کیں، جبکہ صدر ٹرمپ کی ان سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوئی۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کا امکان موجود ہے اور امریکا پاکستان میں متوقع مذاکرات کا منتظر ہے۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نئی امریکی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ رابطے میں ہے اور جلد واضح ہو جائے گا کہ مذاکرات کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں کوئی مستقل پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

PNP