اسرائیلی حکام نے غزہ کے لیے امداد لے جانے کی کوشش کرنے والے فلوٹیلا سے تعلق رکھنے والے دو غیر ملکی کارکنوں کو حراست کے بعد ملک بدر کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم “عدالہ” کے مطابق ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سیف ابو کشیک اور برازیل کے شہری تھیاگو اویلا کو ہفتے کے روز رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم رہائی سے قبل انہیں امیگریشن حکام کے حوالے کیا گیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو ملک بدری کے عمل تک حراست میں رکھا گیا اور امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔
ان کارکنوں کی قانونی نمائندگی کرنے والی وکیل ہدیل ابو صالح نے کہا ہے کہ عدالہ اس پورے عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ رہائی اور واپسی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ دونوں کارکن “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے تحت غزہ کے لیے روانہ ہونے والے گروپ کا حصہ تھے، جس کا مقصد وہاں انسانی امداد پہنچانا بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس فلوٹیلا کو یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز نے روک لیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ فلوٹیلا میں شامل دیگر متعدد کارکنوں کو یونان کے جزیرے کریٹ منتقل کر کے پہلے ہی رہا کر دیا گیا تھا، جبکہ ابو کشیک اور اویلا کو مزید تفتیش کے لیے اسرائیل لے جایا گیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دونوں افراد سے پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ حکام نے انہیں “پیشہ ور اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غزہ کی سمندری ناکہ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب وکیل ہدیل ابو صالح نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد امدادی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ کے مطابق دورانِ حراست دونوں کارکنوں کو سخت حالات اور تنہائی میں رکھا گیا، جبکہ ان کا مشن مکمل طور پر انسانی امداد پر مبنی تھا۔
PNP