لبنان پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے اثرات سے متعلق ایک تشویشناک دعویٰ سامنے آیا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے جنگی سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے کہا ہے کہ لبنان میں زخمی ہونے والے بعض افراد کے جسموں سے باریک دھاتی ذرات برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ذرات دھماکے کے بعد جسم کے اندر پھیل کر شدید اندرونی نقصان کا سبب بنتے ہیں، جس سے علاج مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر محمد نے دعویٰ کیا کہ اسی نوعیت کے دھاتی ذرات اس سے قبل غزہ میں زخمی شہریوں کے جسموں میں بھی پائے گئے تھے، جہاں انہوں نے سنگین اندرونی زخموں کی صورتحال کو مزید خراب کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ذرات مبینہ طور پر ٹنگسٹن جیسی دھات سے بنے ہوتے ہیں اور بعض ہتھیاروں کے دھماکے کے دوران جسم میں داخل ہو کر اعضاء کو متاثر کرتے ہیں۔
سرجن کے مطابق ایسے ہتھیاروں کے استعمال سے شہری آبادی کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور ان کے اثرات عام دھماکہ خیز مواد سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ اور لبنان دونوں میں ایسے ہتھیاروں کے مبینہ استعمال سے متعلق خدشات موجود ہیں، جن کے انسانی جسم پر انتہائی نقصان دہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
PNP