جیولر کی دکان پر 10 کروڑ کی ڈکیتی کی سنسنی خیز اندرونی کہانی سامنے آگئی
کراچی (پی این پی) صدر کے علاقے میں جیولرکی دکان پر 10 کروڑ کی ڈکیتی کی واردات کی سنسنی خیز اندرونی کہانی سامنے آگئی،
پولیس نے واردات میں ملوث ملزم طارق اور مرکزی ملزم کی بیوی عائشہ کو پکڑا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے تجارتی مرکز صدر میں 29 اپریل کی صبح پونے پانچ بجے ہونے والی 10 کروڑ روپے کی سنسنی خیز ڈکیتی کا معمہ حل ہو گیا۔پریڈی پولیس نے کمیونٹی پولیسنگ اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ سونا، چاندی اور ہیرے سو فیصد برآمد کر لیے ہیں۔تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے حیرت انگیز انکشافات کیے، کراچی کے مقامی ملزم طارق نے اس پوری ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ پلان تیار کیا تھا۔طارق نے واردات کے لیے جھنگ سے تعلق رکھنے والے نامی گرامی کرمنل مہتاب کو کراچی بلایا، مہتاب پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں 18 مقدمات درج ہیں۔واردات سے ایک ماہ پہلے مہتاب نے طارق کی مدد سے ابنِ سینا کے علاقے میں ایک کوارٹر کرائے پر لیا۔ بعد ازاں مہتاب نے جھنگ سے اپنے ایک اور ساتھی حسن عرف بلو کو بھی کراچی بلا لیا۔
ملزمان نے سب سے پہلے ابنِ سینا کے علاقے سے ہی ایک موٹرسائیکل چوری کی تاکہ واردات میں استعمال کی جا سکے، جس کے بعد پیر کی صبح سویرے ملزمان زیب النسا اسٹریٹ پر واقع جیولرز شاپ پہنچے اور تالے کاٹ کر اندر داخل ہو گئے۔دکان کے اندر سے کروڑوں روپے کے مال سے بھری بھاری تجوری نکالتے وقت دکان کا چوکیدار وہاں پہنچ گیا، ملزمان نے گھبرانے کے بجائے چوکیدار پر اسلحہ تان لیا اور اسے تجوری اٹھوانے میں مدد کرنے پر مجبور کیا۔ملزمان نے چوکیدار کی مدد سے وہ بھاری تجوری موٹرسائیکل پر رکھی اور سیدھے ابنِ سینا میں واقع اپنے کرائے کے کوارٹر پہنچ گئے اور ایک گھنٹے کی مسلسل مشقت کے بعد تجوری کو توڑا، جس کے اندر سے تیار سونے کے سیٹ، خام سونا، چاندی اور قیمتی ہیرے برآمد ہوئے، ملزمان نے سارا مال کوارٹر میں چھپایا اور فرار کی اگلی منصوبہ بندی شروع کی۔ملزم مہتاب کی والدہ نے پنجاب سے ایک گاڑی کرائے پر لی اور حیدرآباد پہنچ کر بیٹے کو فون کیا، مہتاب کسی بھی شک سے بچنے کے لیے اپنی بیوی عائشہ کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر سپر ہائی وے کے راستے حیدرآباد پہنچا، وہاں اس نے اپنی بیوی عائشہ کو واپس کراچی بھیج دیا اور خود رقم اور والدہ کے ساتھ گاڑی میں فرار ہو گیا۔واردات کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی پریڈی لیاقت حیات اور ایس ایچ او نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے. چوکیدار سے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد سیف سٹی اور کمیونٹی پولیسنگ کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا گیا۔ کیمروں کی مدد سے پولیس ملزمان کے مخصوص علاقیتک پہنچ گئی۔جب پولیس نے کوارٹر پر چھاپہ مارا تو ملزم مہتاب کی بیوی عائشہ وہاں موجود تھی، پولیس نے عائشہ کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو اس کی نشاندہی پر ٹوٹی ہوئی تجوری اور 10 کروڑ روپے کا لوٹا ہوا تمام مال برآمد کر لیا گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی کے ماسٹر مائنڈ طارق کو بھی گرفتار کر لیا تاہم گرفتار ملزم طارق اور عائشہ سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فرار ہونے والے مرکزی ملزم مہتاب اور اس کے ساتھی حسن عرف بلو کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں
PNP
Comments are closed.