by Rao Imran Suleman
Rao Nama

شمالی کوریا کا مشرق کی جانب بیلسٹک میزائلوں کا کامیاب تجربہ

 

شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے بیلسٹک میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام شمالی کوریا کی جانب سے خود کو جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کے طور پر دوبارہ تسلیم کرائے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے جاری کردہ بیان کے مطابق، شمالی کوریا کے علاقے وونسان سے ایسٹ سی کی جانب دوپہر تقریباً 3 بجے ایک بیلسٹک میزائل داغے جانے کا پتہ لگایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ میزائل تجربہ اس واقعے کے 8 دن بعد کیا گیا جب شمالی کوریا نے ایسٹ سی جسے “سی آف جاپان” بھی کہا جاتا ہے، کی جانب کئی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی کوریا نے تقریباً 3 گھنٹوں کے دوران 2 کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ پہلا میزائل بحیرہ جاپان کی جانب داغا گیا جس نے تقریباً 450 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جاپانی نشریاتی ادارے کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا۔ جاپانی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اس تجربے کی تصدیق کی ہے۔

یہ پیش رفت شمالی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے کی اس قرارداد کو مسترد کرنے کے بعد ہوئی ہے جس میں شمالی کوریا سے اپنی جوہری سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس تجربے کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر برائے قومی سلامتی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ ردعمل کا جائزہ لیا جا سکے اور قومی سلامتی پر اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مزید ممکنہ میزائل تجربات کے پیشِ نظر نگرانی بڑھا دی ہے جبکہ جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان اس میزائل تجربے کے حوالے سے قریبی رابطے میں ہیں۔

PNP

Comments are closed.