عدالتیں خاموش ہوں تو مزاحمت ہی واحد راستہ ہے ، علیمہ خان کی پی ٹی آئی قیادت سے متحرک ہونے کی اپیل
راولپنڈی (پی این پی) علیمہ خان نے کہا ہے کہ ان کے بھائی عمران خان کا علاج خاندان کی موجودگی میں کرایا جانا چاہیے، اور اس حوالے سے سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤثر کردار ادا کرے۔
اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو باقاعدہ کال نہیں دی گئی بلکہ صرف درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی کی سینئر قیادت متحرک ہو جائے تو تنظیم خود بخود فعال ہو جاتی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ چند ہفتے قبل اس مقام سے درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں عام کارکن شامل تھے، جبکہ منتخب نمائندوں کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ان کی واحد ترجیح بانی پی ٹی آئی کی صحت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کئی ماہ سے قید تنہائی میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتی نظام مؤثر انداز میں کام نہ کرے تو سیاسی دباؤ ڈالنا ایک راستہ رہ جاتا ہے، اور آئین کے تحت پرامن مزاحمت کا حق موجود ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کا گرینڈ حیات میں موجود اپارٹمنٹ پہلے ہی فروخت کیا جا چکا تھا، جبکہ ان کا اپنا اپارٹمنٹ بھی منسوخ کر دیا گیا اور ادائیگی کے باوجود رقم واپس نہیں ملی۔
انہوں نے اپیل کی کہ ارکانِ پارلیمنٹ اور سینیٹرز اس معاملے پر آگے آئیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کی سہولت مل سکے، ان کی ضمانتوں کی سماعت ہو اور رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
PNP
Comments are closed.