شمالی کوریا میں خودکار جوابی ایٹمی حملے سے متعلق آئینی ترمیم منظور
شمالی کوریا نے ملکی آئین میں ایک اہم اور حساس نوعیت کی ترمیم منظور کرلی ہے، جس کے تحت اگر کسی بیرونی حملے میں سپریم لیڈر کم جونگ اُن ہلاک یا غیر فعال ہوجاتے ہیں تو فوج فوری طور پر جوابی ایٹمی کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ترمیم مارچ میں پیانگ یانگ میں ہونے والے سپریم پیپلز اسمبلی کے اجلاس میں منظور کی گئی۔ نئی آئینی شقوں میں جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں فوری ردعمل کا واضح طریقہ کار شامل کیا گیا ہے۔
ترمیم شدہ قانون کے مطابق اگر دشمن قوتوں کی کارروائی سے ریاست کے جوہری نظام کو خطرہ لاحق ہو تو خودکار جوابی ایٹمی حملہ کیا جاسکے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں North Korea نے اپنی دفاعی حکمت عملی مزید سخت بنادی ہے۔ جنوبی کوریا کے ماہرین کے مطابق پیانگ یانگ اپنی قیادت اور عسکری ڈھانچے کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق Kim Jong Un اپنی ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط سمجھے جاتے ہیں اور عموماً سخت حفاظتی انتظامات کے تحت سفر کرتے ہیں۔
ادھر شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع نے جنوبی سرحد کے قریب نئے توپ خانے کی تعیناتی کی بھی تصدیق کی ہے۔ حالیہ دنوں میں کم جونگ اُن نے ایک اسلحہ ساز فیکٹری کا دورہ کیا جہاں 155 ملی میٹر سیلف پروپیلڈ گن ہووٹزر کا معائنہ کیا گیا۔ اس ہتھیار کی رینج تقریباً 60 کلومیٹر بتائی جارہی ہے۔
دوسری جانب South Korea اور North Korea کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ دونوں ممالک آج بھی تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں کیونکہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ مستقل امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی۔
PNP
Comments are closed.