آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بہترین نوجوان کھلاڑیوں کے نام بتا دیے۔
پی ایس ایل 11 میں راولپنڈیز کی نمائندگی کرنے والے عثمان خواجہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو میں ایونٹ کے نوجوان ٹیلنٹ پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے سمیر منہاس زبردست کھلاڑی ہیں، انہوں نے ہمارے خلاف شاندار نصف سنچری اسکور کی تھی۔
عثمان خواجہ نے کہا کہ صاحبزادہ فرحان کافی کمال کے کھلاڑی ہیں، انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں 9 سنچریاں اسکور کیں۔ وہ سلو کی بجائے تیز سنچری بنانا جانتے ہیں۔
راولپنڈیز کی نمائندگی کرنے والے آسٹریلوی کرٹر نے پشاور زلمی علی رضا کو بھی اپنا پسندیدہ کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ تیسرے نمبر پر میرے پسندیدہ علی رضا ہیں، وہ مسلسل 150 سے زائد کی رفتار سے گیند کرواتے ہیں۔
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک نوجوان ہیں، مجھے ان کا بولنگ اسٹائل پسند ہے، ان کا رن اپ بھی اچھا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چند ایسے بولرز ہیں جو 150 سے زائد کی رفتار سے باؤلنگ کرتے ہیں اور یہ پی ایس ایل کا اسٹینڈرڈ ہے۔
عثمان خواجہ نے افتخار احمد کو چاچا کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ سب سے آخر میں میرے پسندیدہ نوجوان چاچا افتخار احمد ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو بالکل نئی شکل میں ڈھالا، وہ نئی گیند سے بولنگ کرتے تھے اور زلمی کو کچھ میچز جتوائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاچا آپ قابل تعریف ہو، آپ کےکام کو کافی پسند کیا۔
عثمان خواجہ نے اپنی ٹیم میں شامل جنوبی افریقی کھلاڑی ڈیان فوریسٹر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ بھی شاندار رہے ہیں، وہ سیکھنا چاہتا ہے اور ان کی گیم بہت اچھی ہے۔
کھلاڑیوں سے ملاقات کے تجربے کو انہوں نے یوں بیان کیا کہ ساری ٹیمیں ایک ہی ہوٹل میں ہوتی تھیں تو سب سے بڑی اچھی ملاقاتیں رہیں۔
اپنی ٹیم کے پی ایس ایل 11 کے سفر پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں ہم زیادہ میچز نہیں جیت سکے تھے۔
PNP
Comments are closed.