آئی پی ایل فرنچائز ممبئی انڈینز نے مکمل ادائیگی نہیں کی، مچل سینٹنر
نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مچل سینٹنر نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل کی فرنچائز ممبئی انڈینز نے انہیں مکمل ادائیگی نہیں کی۔
مچل سینٹنر کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل 2026 میں شرکت پر ممبئی انڈیز نے انہیں آدھے معاوضے کی ادائیگی کی۔
نیوزی لینڈ کے نامور کھلاڑی کندھے کی انجری کا شکار ہو کر رواں سیزن آئی پی ایل سے باہر ہو گئے تھے۔ ممبئی انڈینز نے مچل سینٹنر کو دو کروڑ بھارتی روپے ادا نہیں کیے بلکہ آدھی رقم دی۔
ایک انٹرویو کے دوران مچل سینٹنر کا کہنا تھا کہ آدھی رقم کی ادائیگی پر انہیں بہت دکھ ہوا۔
سینٹنر کندھے کی انجری سے صحتیاب ہو کر انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے ایک ہفتہ قبل ٹیم میں شامل بھی ہو گئے۔
انٹرویو کے دوران مچل سینٹنر کے جلد فٹ ہو کر نیشنل ٹیم میں شامل ہونے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’میں نے آئی پی ایل میں پہلا میچ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کی وجہ سے مس کیا۔ واپس آیا دہلی کے خلاف کھیلا انجری کا شکار ہوا اور ایک ہفتے کے لیے باہر ہوگیا۔ میں دوبارہ واپس آیا اور پھر انجری کا شکار ہو گیا اور پھر میں گھر واپس چلا گیا۔‘
نیوزی لینڈر کا کہنا تھا کہ ’دو ہفتوں کے دوران میرا دو مرتبہ کندھا انجری کا شکار ہوا میں نے سمجھا کہ میں باڈی پر بوجھ ڈال رہا ہوں، مجھے لگا تھا کہ فٹ ہونے میں آٹھ ہفتے لگیں گے مگر میں چار ہفتے میں فٹ ہوگیا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اب جلد فٹ ہونے کے بعد میڈیا میں میرے بارے میں باتیں کی جا رہی ہیں۔‘
خیال رہے کہ مچل سینٹنر نے ممبئی انڈینز کے لیے پانچ میچز کھیلے، وہ 27 اپریل کو باضابطہ طور پر آئی پی ایل سے باہر ہوئے۔
آئی پی ایل قوانین کے مطابق لیگ کے دوران اگر کوئی کھلاڑی انجرڈ ہوتا ہے تو اس کو آکشن کے وقت دستخط شدہ رقم ملتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آدھی رقم کی ادائیگی کے حوالے سے ممبئی انڈینز نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
PNP
Comments are closed.