کراچی( پی این پی ) سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے بیان پر رد عمل آ گیا ۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ والی سرکار کو عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں کو جمہوریت کا درس دینے کا حق نہیں ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ کون فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آیا، کس کے پاس حقیقی مینڈیٹ ہے۔
’’ایکسپریس نیوز ‘‘ کے مطابق شرجیل میمن نے کہا کہ تعصب، تکبر اور اشتعال انگیز زبان لیگ (ن) کی پرانی سیاسی روایت ہے۔ پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی پنجاب میں ڈالی گئی تھی، ہمیں پنجاب کے عوام سے کوئی بغض نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب کے عوام سے بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام سے ہے۔(ن)لیگ کے دور حکومت میں پنجاب کا مجموعی قرضہ 148 ارب سے بڑھ کر 692 ارب روپے تک پہنچ گیا، کیا یہ ترقی ہے؟ پنجاب میں ناکام گندم پالیسی کی وجہ سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، صوبے پر سیکڑوں ارب کا اضافی مالی بوجھ پڑا جب کہ کراچی ملک کی مجموعی ٹیکس وصولیوں میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔ ہم لاہور اور کراچی کے عوام میں فرق نہیں کرتے۔
سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ لاڑکانہ والے عوام اور جمہوریت کے لیے پھانسی قبول کرتے ہیں ملک سے بھاگنا پسند نہیں کرتے۔ لاڑکانہ کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کرنا دراصل شہید بھٹو، شہید بی بی اور اس خطے کے عوام کی توہین ہے۔ لاڑکانہ والے ہیں جنہوں نے ملک کو متفقہ آئین، ایٹمی پروگرام اور عالمی سطح پر باوقار شناخت دی۔پیپلز پارٹی لیگ (ن) کی طرح مخصوص علاقوں کی نہیں پورے پاکستان کی جماعت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ قومی یکجہتی، جمہوری اقدار اور تمام صوبوں کے حقوق کی بات کی ہے۔ نفرت اور تقسیم کی سیاست وہ عناصر کرتے ہیں جو ہر اختلاف کو صوبائی تعصب میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
PNP
Comments are closed.