by Rao Imran Suleman
Rao Nama

وفاقی اردو یونیورسٹی اساتذہ کا تدریسی عمل و امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان

وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ بھی جامعہ کراچی کے اساتذہ کے نقش قدم پر چل نکلے اور تدریسی عمل و امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

جمعرات کو انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق اور گلشن اقبال کیمپس کے مشترکہ اجلاس میں مطالبات کی تکمیل تک اساتذہ نے یونیورسٹی میں جاری تدریسی عمل اور 8 جون سے شروع ہونے والے امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

دونوں اساتذہ انجمنوں کا مشترکہ اجلاس عبدالقدیر خان آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے دور کو ناکام ترین قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے چانسلر اور صدر پاکستان جانب آصف علی زرداری اور یونیورسٹی کے پرو چانسلر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے وائس چانسلر کے دور کا احتساب کیا جائے۔

مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اساتذہ و ملازمین کی تمام ہاؤس سیلنگ ادا کی جائیں۔ ہاؤس سیلنگ میں 20 فیصد کٹوتی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ تنخواہوں اور پینشن کے تمام بقایاجات ادا کیے جائیں۔ ریٹائرڈ افراد کے بعد از ریٹائرمنٹ کے واجبات ادا کیے جائیں جبکہ 2022 میں جاری کردہ آسامیوں کے اشتہار کے مطابق سلیکشن بورڈ فوری منعقد کروایا جائے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ جبری طور پر برطرف کئے گئے اساتذہ و ملازمین کو بحال کیا جائے۔ یونیورسٹی سے جلد ریٹائر ہونے والے اساتذہ کو سینیٹ کی قرارداد کی روشنی میں ہارڈ شپ کے مطابق ترقی دی جائے۔

اس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ شام کے پروگرام میں جز وقتی اساتذہ کے معاوضے ادا کیے جائیں۔ شعبہ جات کے داخلوں میں مشروط پالیسی فوری طور پر منسوخ کی جائے اور میرٹ کے مطابق داخلوں کی پالیسی اختیار کی جائے۔

یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اساتذہ و ملازمین کی Earned Leaves کے مطابق چھٹیوں کے عوض منہا کی گئی تنخواہ واپس کی جائے۔ یونیورسٹی میں میڈیکل پینلز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اساتذہ کے مطالبات پورے کیے بغیر امتحانات اور تعلیمی عمل کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا۔



PNP

Comments are closed.