وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی یہاں پیدا ہو رہی ہے، یہی سلسلہ رہا تو 2030ء تک ہم آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آ جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتِ حال رہی تو 2050ء تک آبادی 40 کروڑ ہو گی، ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں، 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمیں ہر سال 66 ہزار پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہے، ہمیں 6 کروڑ 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری دینی ہے، ہمیں 3600 پرائمری ہیلتھ یونٹ اور 2 کروڑ نئے گھر چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے، بلوچستان کو پنجاب جتنے پیسے چاہئیں تو ان کو اپنی آبادی پنجاب جتنی کرنی پڑے گی، یہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کا فارمولا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کے فور کی تکمیل کے بعد بھی کراچی میں پانی ٹینکر کے ذریعے بکے گا، سودی نظام ختم کرنے کے لیے کوشش تو کی جائے۔
PNP
Comments are closed.