ایران کے لیے امریکی مالی معاونت کی خبروں پر ٹرمپ کی تردید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مالی امداد فراہم کیے جانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی براہِ راست رقم ادا کرنے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے خاص طور پر ان دعوؤں کی نفی کی جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران کو 300 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے ایسی رپورٹس کو “فیک نیوز” قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ گفتگو میں اس امکان کا ذکر کیا تھا کہ ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کے لیے مستقبل میں ایک بڑے مالیاتی فنڈ پر غور کیا جا سکتا ہے، جس کا حجم تقریباً 300 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایسی کسی بھی مالی معاونت کی ذمہ داری امریکی ٹیکس دہندگان پر نہیں ہوگی۔
جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایسا کوئی فنڈ قائم کیا جاتا ہے تو اس میں سرمایہ خطے کے اتحادی ممالک اور نجی سرمایہ کاروں کی جانب سے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی بحالی سے متعلق مختلف تجاویز سفارتی سطح پر زیرِ غور رہی ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ مالیاتی منصوبے کو مخصوص شرائط اور پیش رفت سے مشروط رکھا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسے کسی بھی فنڈ کے قیام کا انحصار خطے میں پائیدار جنگ بندی، بحری تجارت کے راستوں کی مکمل بحالی اور وسیع تر سیاسی معاہدے پر ہوگا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ممکنہ سرمایہ کاری کا ماڈل سرکاری امداد کے بجائے نجی شعبے کی شمولیت اور کاروباری منصوبوں پر مبنی ہو سکتا ہے۔
PNP
Comments are closed.