کراچی میں ٹرانسپورٹ بند، روزگار اور تعلیم کا نظام متاثر
ٹرانسپورٹرز کے احتجاج سے لاکھوں شہری متاثر، کرایوں میں بھی اضافہ
کراچی، 19 جون 2026: کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر رہا، جس سے لاکھوں شہری شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے۔ بسیں مختلف اڈوں پر کھڑی رہیں جبکہ ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ اور دیگر شہریوں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے۔
حب ریور روڈ، شیرشاہ اور دیگر علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں میں شدید پریشانی دیکھی گئی۔ متعدد پولیس اہلکار، نجی سیکیورٹی گارڈز اور دیگر ملازمین بھی گھنٹوں پیدل سفر کرنے پر مجبور رہے۔
ٹرانسپورٹ کی بندش کے نتیجے میں آن لائن ٹیکسی سروسز اور چنگچی رکشوں پر دباؤ بڑھ گیا، جس سے کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب نجی گاڑیوں کے ذریعے سفری سہولت فراہم کرنے والوں کی طلب میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے مطابق ہڑتال بھاری چالانوں، ای چالان نظام، سرکاری سبسڈی کی عدم ادائیگی، ایکسائز کے ریکارڈ روم سے فائلوں کے غائب ہونے، مبینہ بھتہ خوری، کرایوں میں اضافے کی اجازت نہ ملنے، پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ اور انتظامیہ کی جانب سے مطالبات نہ سنے جانے کے خلاف کی جا رہی ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج بھی کیا اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔