by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکا نے ایران پر تیل سے متعلق پابندیاں دوبارہ عائد کردیں، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف تیل کی فروخت سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایران نے اس اقدام کو حالیہ امن معاہدے کی خلافورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کو بین الاقوامی منڈی میں تیل فروخت کرنے کے لیے دی گئی عارضی رعایت ختم کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے اوفیک کے مطابق نئی پابندیاں 7 جولائی سے نافذ ہو چکی ہیں، جبکہ صرف ان لین دین کی اجازت ہوگی جو پہلے سے موجود معاہدوں کو مکمل یا ختم کرنے کے لیے ضروری ہوں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاشی رعایت اس کے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری سے مشروط ہے، اور سمندری راستوں کے تحفظ کو امریکا اہم سمجھتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا نے معاہدے کی روح کے برعکس اقدامات کیے ہیں، جس سے باہمی اعتماد متاثر ہوا ہے۔
ایران نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ معاہدے کے تحت امریکا نے بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیا تھا، جبکہ ایران سے توقع کی گئی تھی کہ وہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے میں تعاون کرے گا۔

PNP

Comments are closed.