امریکہ کو آبنائے ہرمز پر ایران سے مشاورت کرنی چاہیے، عباس عراقچی۔مذاکرات کی تصدیق
ایران نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکام کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک نیا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت تہران کو آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستوں اور طریقہ کار کے تعین کا حق حاصل ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق امریکا کو نئے راستوں سے متعلق ایران سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ایسے تنازعات کے حل کے لیے براہ راست رابطے کا طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے کچھ اشارے مل رہے ہیں۔ دو ہفتوں سے جاری حملوں کے بعد دونوں ممالک کے عبوری معاہدے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
تہران سے الجزیرہ کے مطابق ہفتے کی رات ایران کے بڑے شہروں پر امریکا کی جانب سے کوئی براہ راست حملہ نہیں کیا گیا،جو تقریباً دو ہفتوں سے جاری رات کے حملوں کے بعد پہلا وقفہ تھا۔
ایرانی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ “ایران نے ایک پُرامن رات گزاری۔”دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید بڑے حملوں کی اپنی سابقہ دھمکی میں نرمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید اب ایسے حملوں کی ضرورت نہ پڑے۔
ٹرمپ نے جمعے کی رات کہا کہ ایرانی حکام اس وقت امریکا سے بات کر رہے ہیں اور معاہدہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بات سننے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی حکام نے الجزیرہ کو تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ تاہم رسول سردار کے مطابق ابھی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اور گہرا عدم اعتماد موجود ہے۔
آبنائے ہرمز کا کنٹرول امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اسے آبنائے میں آمدورفت کی نگرانی کا حق حاصل ہے، امریکا اس تشریح کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایران اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول نہیں رکھتا۔
ایران کی جانب سے آبنائے میں انتظامات کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکا نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو ناکارہ بنایا جو امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا اور خبردار کیے جانے کے باوجود نہیں رکا۔
سابق آسٹریا کے دفاعی اتاشی وولف گانگ پُستائی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف سفارت کاری، اقتصادی دباؤ اور فوجی کارروائی سمیت مختلف حکمت عملی استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا یمن میں ایران کے حوثی اتحادی بھی تنازع میں شامل ہو گئے ہیں، جنہوں نے باب المندب آبنائے میں بحری آمدورفت کو متاثر کیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مشترکہ افواج کے کمانڈ نے جمعے کو یمن کے حوثی زیرِ قبضہ شہر حدیدہ میں حملوں کا دعویٰ کیا اور کہا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات سے متعلق تھے۔
ہفتے کے روز سعودی سول ڈیفنس کے مطابق ینبع اور جازان صوبوں میں متعدد بار سائرن بجائے گئے، جہاں اہم تیل
تنصیبات موجود ہیں۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے علاقے میں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق سائرن ایک ممکنہ خطرے کے باعث بجائے گئے تھے، جو بعد میں ختم کر دیا گیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
PNP
Comments are closed.