by Rao Imran Suleman
Rao Nama

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا شرح سود میں اضافہ ہوگا یا نہیں؟

کراچی(پی این پی)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں اگلے 50 دنوں کے لیے نئِی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور مارکیٹ کے نمائندوں کی اکثریت کو توقع ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو بلا تغیر 11.5 فیصد پر ہی برقرار رکھے گا۔

نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق رواں سال اپریل میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی خدشات کے پیشِ نظر شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد جون کے اجلاس میں بھی اسے اسی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ملک کی حالیہ معاشی صورتحال اور اہم معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث مرکزی بینک محتاط پالیسی اپنانے کو ترجیح دے گا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 97 فیصد معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جبکہ صرف 3 فیصد افراد 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع رکھتے ہیں۔

اس وقت ملک کے زیادہ تر معاشی اشاریے بہتری کی سمت اشارہ کر رہے ہیں۔ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 136 ملین ڈالر تک محدود رہا ہے جو کہ ہدف کے مطابق ہے۔ اس خسارے کی بڑی وجہ ملک میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے باعث اشیاء کی واردات میں اضافہ ہے۔

اس کے علاوہ بھاری غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود جون 2026 کے اختتام تک سٹیٹ بینک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر کے ہدف تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی خطیر رقم بھی 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے۔

مہنگائی کی صورتحال پر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جون کے مہینے میں شرحِ افراطِ زر 11.1 فیصد رہی، جبکہ پورے مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی تقریباً 7.05 فیصد رہی جو سٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف کے بہت قریب ہے۔

ملک کی معاشی سمت پر بات کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ انڈیکیٹرز مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔



PNP

Comments are closed.