by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران نے امریکا سے جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی

تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی درخواست دینے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اور امن سے متعلق فیصلے ایران اپنی قومی پالیسی اور مفادات کے مطابق خود کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کسی بھی صورت امریکا کو یہ اختیار نہیں دے گا کہ وہ جنگ یا امن کے وقت اور شرائط کا تعین کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران پر حملے کے بعد فوری نتائج کی توقع کی تھی، تاہم صورتحال اس کے برعکس رہی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوران امریکا مذاکرات کی بات کرتا ہے، جبکہ ایران پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کو اپنا قانونی حق سمجھتا ہے۔

ترجمان نے بحیرہ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں اور ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے خود کو اس تنازع کا فریق نہیں بنایا۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکا بنیادی کردار رکھتا ہے، جبکہ بعض علاقائی ممالک کی شمولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے متعلقہ علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران مخالف اقدامات میں مزید تعاون سے گریز کریں اور خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری ان میں شریک فریقین پر ہوگی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق حالیہ مذاکرات ہوئے، جن میں بحری نقل و حمل کے نظام کو مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں اور یہ صرف آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام اور علاقائی امور تک محدود ہے۔

PNP

Comments are closed.