by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ترک صدر اردوان کو قتل کرنے کیلئے ہوٹل پر ہیلی کاپٹرز کا دھاوا بولنے والا پائلٹ گرفتار

ترک پولیس نے صدر رجب طیب اردوان کے خلاف جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے دوران مارماریس میں کارروائی کرنے والی ٹیم میں مبینہ طور پر شامل سابق فوجی ہیلی کاپٹر پائلٹ کو تقریباً ایک دہائی بعد گرفتار کرلیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سابق فوجی کپتان برکائے کاراتپے کو مغربی صوبے افیون قرہ حصار میں حراست میں لیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق کارروائی قومی پولیس کے شعبۂ انٹیلی جنس کی نگرانی میں افیون قرہ حصار اور وسطی صوبے اسکی شہر کی پولیس انٹیلی جنس یونٹس نے مشترکہ طور پر کی۔

استغاثہ کے مطابق برکائے کاراتپے ان 37 فوجیوں پر مشتمل ٹیم کا حصہ تھا جسے 15 جولائی 2016 کی رات جنوب مغربی تفریحی شہر مارماریس کے ایک ہوٹل بھیجا گیا تھا۔

جولائی 2016 کی فوجی بغاوت کے وقت صدر اردگان مرماریس کے ایک ریزورٹ ہوٹل میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ یہ پائلٹ اس 37 رکنی کمانڈو اور فوجی یونٹ کا حصہ تھا جس نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اس ہوٹل پر دھاوا بولا تھا تاکہ صدر اردگان کو قتل یا گرفتار کیا جا سکے۔ صدر اردگان اس حملے سے محض چند منٹ پہلے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ہے، جو ترک فوج کا سابق کپتان اور ملٹری ہیلی کاپٹر پائلٹ تھا۔ بغاوت میں ملوث ہونے پر اسے فوج سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ ایک دہائی سے مفرور تھا اور بین الاقوامی سطح پر انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر مطلوب تھا۔

ترک وزارت داخلہ نے کاراتپے کو اس ٹیم کا آخری مفرور رکن قرار دیا اور کہا کہ اسے عالمی پولیس تنظیم کے ریڈ نوٹس کے تحت تلاش کیا جا رہا تھا۔

کاراتپے پر صدر کو قتل کرنے کی کوشش، سرکاری فرائض کی انجام دہی کے باعث ایک شخص کے قتل، فوجی تعزیراتی قانون کی خلاف ورزی اور متعدد مسلح افراد کی جانب سے رات کے وقت رہائش گاہ میں سنگین ڈکیتی کے الزامات عائد ہیں۔

وزارت انصاف کے مطابق کاراتپے کا مقدمہ مرکزی مقدمے سے الگ کردیا گیا تھا کیونکہ وہ گرفتاری سے بچا ہوا تھا۔ اس کے خلاف عدالتی کارروائی مغلا کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی نگرانی میں جاری ہے۔

مارماریس کارروائی کے مرکزی مقدمے میں 47 افراد کو اردوان کے خلاف کارروائی میں شرکت کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔ مغلا کی ایک عدالت نے اکتوبر 2017 میں درجنوں ملزمان کو متعدد عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ کاراتپے کے علاوہ فتح اللہ گولن، سابق لیفٹیننٹ کرنل اوزجان کاراجان اور رمضان ایلماس کے مقدمات بھی گرفتاری نہ ہونے کے باعث الگ کردیے گئے تھے۔ ترک وزارت انصاف کے مطابق سپریم کورٹ آف اپیلز نے مرکزی مقدمے میں سزاؤں کو مئی 2022 میں برقرار رکھا۔

ترکی نے ناکام فوجی بغاوت کا الزام امریکا میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی تحریک پر عائد کیا تھا۔ گولن، جو 1999 سے اپنی مرضی کی جلاوطنی میں امریکا میں مقیم تھے اور بعد ازاں انتقال کرگئے، نے بغاوت یا اردوان کے خلاف کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی اور آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ترکی نے امریکا سے متعدد مرتبہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تاہم واشنگٹن نے ان درخواستوں کو منظور نہیں کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انقرہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد حوالگی کے لیے مطلوب قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

ترکی فتح اللہ گولن کی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے، تاہم امریکا اور یورپی یونین نے اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔

مارماریس کارروائی کے بعض دیگر ملزمان نے بھی ترک حکومت کے مؤقف کو چیلنج کیا تھا۔ مقدمے میں سزا پانے والے سابق بریگیڈیئر جنرل گوکھان شاہین سونمیزاتےش نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم کو اردوان کو قتل کرنے کے بجائے حراست میں لینے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے گولن تحریک سے کسی تعلق کی بھی تردید کی اور دعویٰ کیا تھا کہ فوجیوں کو اعلیٰ کمانڈروں نے گمراہ کیا جبکہ انہیں جان بوجھ کر تاخیر سے مارماریس بھیجا گیا۔

سونمیزاتےش نے 2026 میں بغاوت کے ایک الگ مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران بھی اپنے مؤقف کو دہرایا اور الزام عائد کیا کہ ترکی کی اعلیٰ فوجی قیادت نے بغاوت کی تیاری کی، بعد ازاں اپنے ماتحت اہلکاروں کو چھوڑ کر اردوان کا ساتھ دے دیا۔

سابق پائلٹ کرنل مرات داغلی نے بھی عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں فوجیوں کو مارماریس منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم ابتدا میں انہیں مشن کا مقصد نہیں بتایا گیا۔ ان کے مطابق ہیلی کاپٹروں کے ایندھن بھرنے کے لیے رکنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ملک میں بغاوت شروع ہوچکی ہے۔

دیگر ملزمان نے بھی قتل کی کوشش اور یونٹ کے گولن تحریک سے تعلق کے الزامات مسترد کیے تھے۔ میجر تانر بربر نے فروری 2017 میں عدالت کو بتایا تھا کہ مقدمے میں شامل کسی افسر کے گولن تحریک سے تعلقات نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی جانچ کے طریقۂ کار کے تحت ایسی وابستگی سامنے آجاتی۔

بربر نے یہ بھی کہا تھا کہ فوجیوں کا اردوان کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ انہیں یقین تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

یورپی یونین کے انٹیلی جنس اینالیسس سینٹر کی ایک مبینہ افشا شدہ جائزہ رپورٹ، جسے برطانوی اخبار نے جنوری 2017 میں رپورٹ کیا تھا، میں بھی کہا گیا تھا کہ بغاوت صرف گولن تحریک کی ہدایت پر نہیں ہوئی بلکہ اردوان کے مختلف مخالفین اس میں شریک تھے اور بعض شرکا کو فوج میں متوقع بڑے پیمانے پر تطہیر کا خدشہ تھا۔

ناکام بغاوت کے بعد اردوان حکومت نے گولن تحریک کے خلاف پہلے سے جاری کریک ڈاؤن میں نمایاں توسیع کی۔ ترک وزیر انصاف کی جانب سے جولائی میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق تحریک سے مبینہ روابط کے الزام میں 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کی تحقیقات کی جاچکی ہیں جبکہ ایک لاکھ 27 ہزار 102 افراد کو سزا سنائی گئی ہے۔

 

PNP

Comments are closed.