by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امبالہ : سکھ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، ڈی ایس پی سمیت متعدد افراد زخمی

امبالہ: ہریانہ کے ضلع امبالہ میں دہلی-امرتسر نیشنل ہائی وے (NH-44) پر سکھ مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید پرتشدد تصادم کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت متعدد اہلکار اور مظاہرین زخمی ہو گئے۔ شاہراہ کو 6 گھنٹے تک ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند رکھا گیا، جسے کھلوانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔

پنجوکھرا صاحب گردوارہ کے قریب انٹرنیشنل اینٹی خالصتانی ٹیررسٹ فرنٹ کے سربراہ گورسیمران سنگھ منڈ کی گاڑی پر مبینہ حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی، جس پر پولیس نے مقامی نوجوانوں کو حراست میں لیا۔

 سکھ تنظیموں نے مقامی نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اصل ذمہ دار گورسیمران سنگھ منڈ ہیں، لہٰذا انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔

13 اگست کی رات مظاہرین نے نیشنل ہائی وے 44 کو بلاک کر دیا، جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے شاہراہ کی رکاوٹ برقرار رکھنے کے لیے ایک گیس ٹینکر اور دیگر ٹرکوں کی چابیاں بھی چھین لیں۔

شاہراہ خالی کرانے کے دوران دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گئی۔ مظاہرین نے مبینہ طور پر تلواروں اور کلہاڑیوں جیسے تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں امبالہ کے ڈی ایس پی وریندر شرما کے ہاتھ اور انگوٹھے پر شدید چوٹیں آئیں، جبکہ دیگر 5 پولیس اہلکار اور کئی مظاہرین زخمی ہو گئے۔

پولیس نے صورتحال پر قابو پاتے ہوئے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کرا دیا ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔



PNP

Comments are closed.