امبالہ : سکھ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، ڈی ایس پی سمیت متعدد افراد زخمی
امبالہ: ہریانہ کے ضلع امبالہ میں دہلی-امرتسر نیشنل ہائی وے (NH-44) پر سکھ مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید پرتشدد تصادم کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت متعدد اہلکار اور مظاہرین زخمی ہو گئے۔ شاہراہ کو 6 گھنٹے تک ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند رکھا گیا، جسے کھلوانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
پنجوکھرا صاحب گردوارہ کے قریب انٹرنیشنل اینٹی خالصتانی ٹیررسٹ فرنٹ کے سربراہ گورسیمران سنگھ منڈ کی گاڑی پر مبینہ حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی، جس پر پولیس نے مقامی نوجوانوں کو حراست میں لیا۔
Violent clashes are reported between Khalistan supporters and Indian police in Ambala, Punjab. pic.twitter.com/n7dS6wzmkp
— Mohsin Ali (@Mohsin_o2) August 13, 2026
سکھ تنظیموں نے مقامی نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اصل ذمہ دار گورسیمران سنگھ منڈ ہیں، لہٰذا انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔
13 اگست کی رات مظاہرین نے نیشنل ہائی وے 44 کو بلاک کر دیا، جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے شاہراہ کی رکاوٹ برقرار رکھنے کے لیے ایک گیس ٹینکر اور دیگر ٹرکوں کی چابیاں بھی چھین لیں۔
شاہراہ خالی کرانے کے دوران دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گئی۔ مظاہرین نے مبینہ طور پر تلواروں اور کلہاڑیوں جیسے تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں امبالہ کے ڈی ایس پی وریندر شرما کے ہاتھ اور انگوٹھے پر شدید چوٹیں آئیں، جبکہ دیگر 5 پولیس اہلکار اور کئی مظاہرین زخمی ہو گئے۔
پولیس نے صورتحال پر قابو پاتے ہوئے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کرا دیا ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
PNP
Comments are closed.