by Rao Imran Suleman
Rao Nama

چئیرمین PCB سینئر کھلاڑیوں سے انتہائی مایوس، تھنک ٹینک کو جونیئر کھلاڑیوں پر فوکس کی ہدایت

دورہ انگلینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن پرفارمینس اور ہنگامی اقدامات کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت ہیڈ لائنز میں ہے۔

وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو پاکستان روانہ کئے جانے پر پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم کے سینئر اور تجربے کار کرکٹرز کی پرفارمنس سے انتہائی مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔

2024 آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست کے بعد سرجری کی بات کر کے انھوں نے ایکبار پھر انہی کھلاڑیوں کو موقع دیا، لیکن ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں پانچ دن میں نیوزی لینڈ اور بھارت سے شکست کے بعد پہلے ہی راونڈ سے باہر ہوگئی۔

2025 ایشیا کپ میں ٹیم دبئی میں بھارت سے تین مسلسل میچ ہار گئی، پھر 2026 آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی ٹیم پہلے راؤنڈ سے آگے نہ بڑھ سکی، اب دورہ انگلینڈ میں پہلے لیڈز ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز سے شکست اور لارڈز میں194 رنز سے ہارنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ انتہائی فیصلوں کیساتھ اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان واپس بلایا گیا، ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد بولنگ کوچ عمر گل کی چھٹی کیساتھ پانچ اور کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا، البتہ چیئر مین پی سی بی سید محسن رضا نقوی آئندہ چند روز میں مزید سخت فیصلے کر نے سے متعلق مشاورت کر رہے ہیں۔

فروری 2024 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سبراہ کا عہدہ سنبھالنے والے سید محسن رضا نقوی قومی ٹیم کے سینئر اور تجربے کار کھلاڑیوں کی کارکردگی سے انتہائی مایوس ہیں اور مستقبل میں نوجوان اور جونیئر کھلاڑیوں کو آگے لانے کے خواہش مند ہیں، جو مستقبل میں ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔

اس سلسلے میں چیئرمین نے مستقبل میں انڈر 19 اور جونیئر کرکٹرز کو زیادہ سے زیادہ مواقعوں کیساتھ مکمل اعتماد دینے کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہیں، ساتھ ہی سلیکشن کے معاملات میں شفافیت کیساتھ آزمائے ہوئے اور تجربے کار کھلاڑیوں کو ناکامی کے بعد دوبارہ موقع نہ دینے کے حوالے سے سلیکشن کمیٹی کو واضع ہدایات جاری کر دی ہیں۔



PNP

Comments are closed.