بانئ پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا کیس: وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے: جسٹس شاہد وحید
سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے میں لکھا ہے کہ ریکارڈ منگوا کر کیسز مقرر کیے جائیں، کیسز مقرر کرنے کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے۔
بانئ پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ فریقین کی جانب سے کمرۂ عدالت میں کوئی نہیں؟
عدالتی عملے نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد صاحب کی حاضری لگی ہوئی ہے، وہ اس وقت عدالت میں موجود نہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اٹارنی جنرل آ جائیں پھر سب کو سنیں گے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے کل حکم نامہ جاری کیا ہے، وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آئینی عدالت کا حکم نامہ ججز کو پڑھ کر سنایا۔
جسٹس شاہد وحید نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں؟
رانا اسد نے کہا کہ جی، اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت میں پیش ہو کر آئینی عدالت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین کے مطابق آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں، کیسز بھی منگوا سکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے میں لکھا ہے کہ ریکارڈ منگوا کر کیسز مقرر کیے جائیں، وفاقی آئینی عدالت میں کیسز مقرر کرنے کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، عدالت نے 18 اگست کے آرڈر میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا، کیا افسران کا پیش نہ ہونا حکم عدولی نہیں؟ کوئی پیش نہیں ہوا، کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے، علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہو گا، یہ پوائنٹ فی الحال سائیڈ پر رکھ دیں، کیا ہمارے آرڈر کے باقی حصے پر عمل ہو رہا ہے؟ کیا ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی؟ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، وفاقی آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے، آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کر سکتا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا عدالت آج درخواستیں خارج کر دے یا سماعت نہ کرے؟ کیا ہم آئینی عدالت کے حکم کے پابند ہیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی اور کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟
سپریم کورٹ نے آئینی عدالت کے فیصلے پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہو گا عدالت کیس پر سماعت مؤخر کر دے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہوا تھا، سرکاری افسران میں سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اعتماد اور روابط کا شدید فقدان چل رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرکاری افسران کو آج پیش ہونا چاہیے تھا۔
جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کر دیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہو گا کہ ایک موقع دے دیں، افسران شاید سمجھے ہوں کہ آج سماعت ہی نہیں ہو گی۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ نظرِ ثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہے کہ نجی اسپتال میں علاج نہیں ہو سکتا۔
جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کا طبی سہولتیں سے متعلق آرڈر ابھی بھی موجود ہے، وفاقی آئینی عدالت سے آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہے ہیں، عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، سوالات کا منفی مطلب نہ لیجیے گا، یہ صرف سمجھنے کے لیے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم میں لکھا ہے کہ وہ تعین کریں گے کہ بنیادی حقوق کے کیسز کون سن سکتا ہے، بنیادی حقوق کا معاملہ تو ہر کیس میں ہوتا ہے، شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے۔
وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ عدالت کی آرٹیکل 175 ای پر معاونت کروں گا۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانئ پی ٹی آئی کی اپیل میں کوئی آئینی تشریح درکار نہیں تھی، توہینِ عدالت کی درخواستوں میں بھی آئین کی تشریح کی ضرورت نہیں، بانئ پی ٹی آئی کو عدالتی حکم کے باوجود شفاء اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل منصور اعوان کی 3 ہفتوں تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے بانئ پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا کیس 3 ہفتوں تک ملتوی کر دیا۔
PNP
Comments are closed.