آج کی ملاقات میں خیبرپختونخوا سے متعلق بھی بات ہوئی، کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جمہوری لحاظ سے ناپسندیدہ ہے: ناصر حسین شاہ
کراچی (پی این پی) صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ گورنر راج سے متعلق بہت زیادہ بحث ہو رہی ہے صدر اور وزیراعظم کی میٹنگ فارمل تھی وزیراعظم امریکا سے آئے تھے تو دورے سے آگاہ کیا۔
نجی ٹی وی چینل ’’ اے آر وائی نیوز ‘‘ کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے ناصرحسین شاہ نے کہا کہ آج کی ملاقات میں کےپی سے متعلق بھی بات ہوئی، صدر اور بلاول بھٹو کا موقف ہے کہ کوئی ایسی چیز اچانک سے نہیں ہونی چاہیے، کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جمہوری لحاظ سے ناپسندیدہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایسا نہیں ہےکہ گورنرراج یا ایمرجنسی لگانی ہے اور ہمیں قائل کرنے آئے تھےجو صدر اور بلاول کاموقف ہے وہی وزیراعظم کا بھی موقف تھا، کل ایک مشترکہ وفد پی ٹی آئی سے ملاقات کرے گا جس میں پی ٹی آئی کو کہیں گے مارچ یا دیگر چیزوں کی بجائے صوبے کوسنجیدہ لیں، پی ٹی آئی کو کہیں گےکہ صوبائی صورتحال کو سنجیدگی سے لیں۔
ناصرشاہ کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہونی چاہیے ایسا نہ ہو کہ ایمرجنسی یا گورنر راج ناگزیر ہو جائیں، پوری کوشش یہی ہےکہ ایسی صورتحال نہ ہو جس پر اقدامات اٹھانا پڑیں، پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں میں سنجیدگی ہے لیکن کچھ بھڑکیں مار رہے ہیں جو مناسب نہیں، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنرراج لگانے کی باتیں قبل ازوقت ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ محسن نقوی نے امن وامان کی صورتحال سے متعلق بات کی، ملاقات میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں ہو رہی، میٹنگ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومت کا موازنہ بھی دیا گیا بلوچستان کے وزیراعلیٰ کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کی سپورٹ کر رہے ہیں جب کہ بتایا گیا خیبرپختونخوا میں کارروائیوں کو سپورٹ نہیں دی جارہی، بتایاگیا خیبرپختونخوا کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے محسن نقوی کابھی یہی خیال تھا کہ پہلے بات چیت کی کوشش کی جائے محسن نقوی کا خیال ہےکہ صوبائی حکومت کےلیے امن و امان ترجیح ہونی چاہیے۔
PNP
Comments are closed.