کراچی(پی این پی)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ فیول ریلیف پیکیج حل نہیں، لیوی کا خاتمہ کیا جائے، وزیر اعظم اپنا وعدہ پورا کریں ورنہ ہم دوبارہ ملتان سے کسی بھی وقت احتجاج کا سلسلہ شروع کردیں گے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ روانگی سے قبل امیر جماعت اسلامی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ وطن واپسی پر اس معاملے کو دیکھیں گے جس کے بعد حافظ نعیم الرحمان نے کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف پیکیج کو زبردست قرار دے رہی ہے، ریلیف بھی سب کو نہیں مل پارہا یہ صرف 20 سے 25 فیصد لوگوں کو مل رہا ہے، پاکستان میں اڑھائی کروڑ موٹر سائیکل 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں تھی، احتجاج اور دھرنے شروع ہوئے تو حکومت اس جانب آئی، اپوزیشن پارٹیاں عوامی حقوق کی بات نہیں کررہی۔
امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ امیروں کے لئے الگ نظام بنالیں، بڑی گاڑیوں کے لئے فیول مہنگا کردیں، حکومت نے 26 ارب روپے ریلیف ماہانہ کا اعلان کیا مگر ڈیڑھ سو ارب ماہانہ وصول کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کے لئے کوئی ریلیف نہیں، ریلیف پیکیج نہیں، لیوی کا خاتمہ اصل ریلیف ہے، ہم نے پوائنٹس بھی بتائے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ ہم ایک دن کے لئے بھی ان مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے، یہ بھتہ حکومت کو ختم کرنا پڑے گا، ہم دوبارہ ملتان سے کسی بھی وقت احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیں گے۔
وزیر اعظم کو اپنا وعدہ پوری کرکے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، ہم نے 7 اکتوبر2026 تک کا وقت اہل غزہ کے لئے مختص کیا ہے، اس کے بعد ہم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے بعد میں حکومت کو ہم سے شکایت نہیں ہونی چاہئے۔
PNP
Comments are closed.