متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان
ابوظہبی (پی این پی)متحدہ عرب امارات نے پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
اماراتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد یکم مئی سنہ 2026 سے ہوگا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے طویل مدتی تزویراتی اور اقتصادی ویژن اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے عین مطابق ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کی مقامی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کرنا ہے، جو ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد پیدا کنندہ کے طور پر اماراتی عزم کو مزید مستحکم کرے گا۔اماراتی بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فیصلہ ملکی پیداواری پالیسی اور موجودہ و مستقبل کی صلاحیتوں کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ قومی مفادات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کی فوری ضروریات کو پورا کرنے میں مثر کردار ادا کیا جا سکے۔ بیان کے مطابق خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کی وجہ سے سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بنیادی رجحانات درمیانی اور طویل مدت میں توانائی کی عالمی طلب میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات نے سنہ 1967 میں امارت ابوظبی کے ذریعے اوپیک میں شمولیت اختیار کی تھی اور سنہ 1971 میں ریاست کے قیام کے بعد بھی یہ رکنیت برقرار رہی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اوپیک سے نکلنے کے بعد بھی متحدہ عرب امارات اپنا ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا اور مارکیٹ کی طلب و حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی پیداوار میں بتدریج اور نپے تلے انداز میں اضافہ کرے گا۔
اماراتی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ پیداواری کوٹے کی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ان کے ملک کے پاس کام کرنے کی زیادہ گنجائش اور لچک ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک خود مختار قومی فیصلہ ہے جو ہمارے تزویراتی اور اقتصادی وژن پر مبنی ہے۔رواں ماہ پانچ اپریل سنہ 2026 کو اوپیک پلس نے مئی کے مہینے کے لیے پیداواری کوٹے میں 2 لاکھ 6 ہزار بیرل یومیہ اضافے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم جنگ کی وجہ سے تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ آبنائے ہرمز فروری کے آخر سے بند ہے، جس کی وجہ سے اوپیک پلس کے ممالک کو پیداوار کم کرنا پڑی۔ایک ماہ سے زائد عرصہ گذرنے کے بعد لگائے گئے اندازوں کے مطابق سپلائی میں ہونے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس سے عالمی رسد میں 12 سے 15 ملین بیرل یومیہ یعنی تقریبا 15 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
جے پی مورگن بینک کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کی یہ معطلی مئی کے وسط تک جاری رہی تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں جو کہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔اوپیک پلس اتحاد میں ایران سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران پیداوار سے متعلق ماہانہ فیصلوں میں صرف آٹھ ممالک شامل رہے ہیں اور ان ممالک نے سنہ 2025 سے اپنی مارکیٹ شیئر کی بحالی کے لیے پیداواری کٹوتیوں کو ختم کرنا شروع کیا تھا۔ان آٹھ ممالک میں سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قازقستان، الجزائر اور سلطنت عمان شامل ہیں جنہوں نے اپریل سنہ 2025 سے دسمبر سنہ 2025 تک اپنی پیداوار میں 29 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کیا، جس کے بعد جنوری سے مارچ سنہ 2026 تک اس اضافے کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔توقع ہے کہ اتحاد میں شامل ممالک کا اگلا اجلاس تین مئی سنہ 2026 کو منعقد ہوگا۔
PNP
Comments are closed.