ایران نے دفاعی حکمتِ عملی میں نئے مرحلے کا اشارہ دے دیا
تہران: ایران کی مصلحتِ نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ لبنان کے دفاع کے تناظر میں اسرائیل کے خلاف ایران کی کارروائیاں صرف فوجی اقدامات نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹریٹجک پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اگر خطے میں اس کے اتحادی گروہوں یا شراکت داروں کو نشانہ بنایا گیا تو ردعمل جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات علاقائی طاقت کے توازن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آملی لاریجانی کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحاد، جسے محورِ مزاحمت کہا جاتا ہے، میں مختلف ممالک اور تنظیمیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کے کسی بھی رکن پر حملے کی صورت میں جواب دینا ناگزیر سمجھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تنازع میں شدت آتی ہے یا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو تہران جامع اور مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ملک کی دفاعی پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں صرف خطرات کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات اور فعال حکمتِ عملی کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ محورِ مزاحمت ایران کے قریبی علاقائی اتحادیوں اور مسلح گروہوں پر مشتمل ایک غیر رسمی نیٹ ورک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکی اثر و رسوخ کی مخالفت کرتا ہے۔
PNP
Comments are closed.