گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جو 2 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان مقابلوں میں 74 ممالک کے تقریباً 3 ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کا 36 رکنی دستہ بھی ان کھیلوں میں شریک ہے، جس میں 20 کھلاڑی جبکہ کوچز اور آفیشلز شامل ہیں۔
پاکستانی کھلاڑی 6 کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں ایتھلیٹکس، باکسنگ، جوڈو، جمناسٹکس، لان بالز اور تیراکی شامل ہیں۔
پاکستانی دستے کی سب سے بڑی امید اولمپک جیولن تھرو چیمپئن ارشد ندیم ہیں، جو کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔
ارشد ندیم نے ماضی میں عالمی سطح پر پاکستان کے لیے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس لیے ان سے گولڈ میڈل کی سب سے زیادہ امید کی جارہی ہے۔
ایتھلیٹکس میں ارشد ندیم کے علاوہ فائقہ ریاض، انصار عباس، محمد اختر، محمد اسماعیل، محمد یاسر اور نورین حسین پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
باکسنگ میں افضل خان، فاطمہ زہرا، ملائکہ زاہد، قدرت اللّٰہ اور ثمامہ رحمان، جوڈو میں شاہ حسین شاہ، جمناسٹکس میں شہزاد علی، لان بالز میں مقصود وسیم خان اور محمد ایوب قریشی جبکہ تیراکی میں حمزہ آصف، حریم ملک، جہانارا نبی اور محمد احمد درانی شریک ہیں۔
پاکستان کے تمغے جیتنے کے امکانات:
کھیلوں کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے مضبوط امید ارشد ندیم کا جیولن تھرو مقابلہ ہے۔ اگر وہ اپنی بہترین فارم میں رہے تو گولڈ میڈل کے مضبوط امیدوار ہیں۔
باکسنگ میں بھی پاکستان کے چند کھلاڑی اپ سیٹ کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں، تاہم اس شعبے میں مقابلہ بہت سخت ہوگا۔
جوڈو میں شاہ حسین شاہ سے بھی اچھی کارکردگی کی امید ہے، کیونکہ پاکستان ماضی میں کامن ویلتھ مقابلوں میں جوڈو سے تمغہ حاصل کر چکا ہے۔
لان بالز، تیراکی اور جمناسٹکس میں پاکستان کے کھلاڑیوں کے لیے بنیادی ہدف فائنل مرحلے تک پہنچنا اور ذاتی بہترین کارکردگی دکھانا ہوگا۔
مجموعی طور پر پاکستان سے ایک سے تین تمغوں کی امید رکھی جا سکتی ہے، جبکہ سب سے روشن امکان ارشد ندیم کے ذریعے گولڈ میڈل کا ہے۔ اگر باکسنگ یا جوڈو میں کسی کھلاڑی نے شاندار کارکردگی دکھائی تو پاکستان کا تمغوں کا مجموعہ مزید بہتر ہو سکتا ہے۔
پاکستانی شائقین کی نظریں خاص طور پر ارشد ندیم پر ہوں گی، جو نہ صرف قومی امیدوں کا مرکز ہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک مثال بن چکے ہیں۔
PNP
Comments are closed.