by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لیبیا میں مصالحتی کوششیں: پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار پر بین الاقوامی رپورٹ

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان خاموش سفارتی کوششوں کے ذریعے لیبیا کی دو متحارب حکومتوں اور بااثر گروہوں کے درمیان مفاہمت کرانے کے عمل میں شریک ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان، لیبیا کے فریقین یا دیگر متعلقہ ممالک کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ کے مطابق، لیبیا میں 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک سیاسی تقسیم اور بدامنی کا شکار ہے۔ اس وقت ملک دو بڑی انتظامیہ کے زیرِ اثر ہے۔ مغربی حصے میں دارالحکومت طرابلس سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کام کر رہی ہے، جبکہ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں ایک الگ انتظامی ڈھانچہ اور فوجی قیادت موجود ہے۔

رائٹرز کے مطابق، امریکا گزشتہ کئی ماہ سے لیبیا میں سیاسی مفاہمت کی کوششیں کر رہا ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کو بھی اس عمل میں شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستانی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس سفارتی عمل کو سعودی عرب سمیت بعض دیگر علاقائی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت آئندہ تین سال کے لیے ایک عبوری قومی حکومت قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف سیاسی اور عسکری دھڑوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق ملک میں اختیارات کی تقسیم، بجٹ، تیل کی آمدنی اور آئندہ انتخابات کے لیے ایک متفقہ فریم ورک تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق، لیبیا میں دیرپا امن کے لیے صرف سیاسی معاہدہ کافی نہیں ہوگا بلکہ بیرونی طاقتوں کے مفادات، تیل کی آمدنی کی تقسیم، ریاستی اداروں کی تشکیل اور انتخابی نظام جیسے بنیادی اختلافات کا حل بھی ضروری ہوگا۔

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے لیبیا کی مشرقی قیادت سے وابستہ صدام حفتر سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد صدام حفتر نے امریکا کا دورہ کیا اور امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بعد ازاں لیبیا میں سیاسی مفاہمت اور قومی اتحاد کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیبیا کے بحران میں امریکا، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات اور روس جیسے ممالک کا کردار زیادہ نمایاں رہا ہے، تاہم پاکستان کے دونوں فریقوں کے ساتھ بہتر تعلقات اسے ممکنہ سفارتی رابطوں میں ایک مفید کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے کئی امن معاہدوں کی طرح اس ممکنہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار تمام فریقوں کے مستقل تعاون اور معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔

PNP

Comments are closed.