by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکا کا ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں کا دعویٰ

امریکا اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے

0

آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ، امریکا کا ایران میں 80 سے زائد فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا دعویٰ، تیل پر پابندیاں بھی بحال

واشنگٹن / تہران: آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ایران کی تیل برآمدات سے متعلق دی گئی عارضی رعایت بھی واپس لے لی، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی اور بحری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کا جواب دینا تھا۔

سینٹکام کے بیان کے مطابق فضائی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل تنصیبات، ڈرون لانچنگ سائٹس، اینٹی شپ کروز میزائل نظام اور متعدد بحری اثاثوں کو ہدف بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ بعض مقامات پر زخمیوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے امریکی حملوں کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی تیل برآمدات سے متعلق دی گئی عارضی رعایت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کو محدود مدت کے اندر ایران سے تیل کی خرید و فروخت بند کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

امریکی فیصلے کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر خطے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدامات کو مفاہمتی فریم ورک اور جنگ بندی کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

دریں اثنا قطر نے بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سفارتی سطح پر متعلقہ فریقوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.