امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی
امریکا نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر تازہ فضائی کارروائیاں کی ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ میزائل، ڈرون لانچنگ مقامات اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک متعدد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ کشتیاں تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مبینہ کارروائیاں بین الاقوامی سمندری راستوں کے لیے خطرہ تھیں اور جنگ بندی کے تقاضوں سے متصادم تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی آپریشن مکمل ہو چکا ہے، تاہم اگر مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو امریکا مناسب ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ وہ حالات کے مطابق جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی علاقوں، جن میں بندرعباس، سرک اور قشم شامل ہیں، میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات پر دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ادھر بحرین میں، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا صدر دفتر موجود ہے، حفاظتی اقدامات کے طور پر میزائل حملے کے انتباہی سائرن بجائے گئے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث وسیع علاقائی تنازع کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔
PNP
Comments are closed.