آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث آئل ٹینکروں کے راستے تبدیل، ہزاروں سمندری کارکن متاثر
خلیج فارس میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ حالیہ سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بجائے اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جبکہ ہزاروں سمندری کارکن اب بھی خطے میں موجود جہازوں پر تعینات ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے سکیورٹی واقعات کے بعد کئی تجارتی جہازوں نے احتیاطی تدابیر کے تحت اپنی نقل و حرکت کا ازسرِ نو جائزہ لیا۔ بعض ایل این جی ٹینکر، جو قطر کی برآمدی تنصیبات کی جانب جا رہے تھے، واپس مڑ گئے، جبکہ ایک بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر نے بھی عمان کے قریب اپنا راستہ تبدیل کیا۔
دوسری جانب کچھ بحری جہاز معمول کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں ٹریفک مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی۔ بحری نقل و حرکت کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق حالیہ دنوں جہازوں کی آمدورفت میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی ہے، تاہم سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل کے مطابق خطے میں سیکڑوں تجارتی جہاز موجود ہیں جن پر ہزاروں سمندری کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ سکیورٹی صورتحال نے ان کارکنوں میں بے یقینی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جبکہ بعض جہاز محفوظ راستے کے انتظار میں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران نے ایران اور امریکا کے درمیان بحری آمدورفت سے متعلق اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جہازوں کی نقل و حرکت اور نگرانی کے طریقہ کار پر مختلف مؤقف خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی شپنگ، توانائی کی سپلائی چین اور خطے کی مجموعی سلامتی پر اس کے مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
PNP
Comments are closed.