کراچی(پی این پی)انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 12 مئی کے مقدمات میں تفتیشی افسر کو کیس پراپرٹی جمع کرانے کے لئے آخری مہلت دیتے ہوئے سابق مشیر داخلہ وسیم اختر کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ 12 مئی کے 6 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ سابق مشیر داخلہ سندھ وسیم اختر دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ مقدمات کی کیس پراپرٹی پیش نہ کرنے پر عدالت نے تفتیشی افسر پر شدید اظہار برہمی کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آخری موقع دے رہے ہیں، اگر آئندہ سماعت پر کیس پراپرٹی پیش نہ کی تو ٹرائل اس کے بغیر ہی کردیں گے۔ عدالت نے ملزم وسیم اختر کی بریت کی 2 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
وکیل صفائی مشتاق احمد اور سپیشل پراسیکیوٹر نے بریت کی درخواست پر دلائل دیئے۔ بریت کی درخواستوں کا فیصلہ 25 جولائی کو متوقع ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کیخلاف 2007 میں مقدمات درج کئے گئے تھے۔
وسیم اختر پر الزام ہے کہ ان کی ہدایت پر کارکنوں نے ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کی۔ ملزمان کی فائرنگ سے 50 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
PNP
Comments are closed.